حدیث نمبر: 3674
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا زَالَ جِبْرَائِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ , حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل برابر پڑوسی کے بارے میں وصیت و تلقین کرتے رہے ، یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ وہ ہمسایہ کو وارث بنا دیں گے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3674
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 14352 ، ومصباح الزجاجة : 1280 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/259 ، 305 ، 445 ، 514 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جوار (پڑوس) کے حق کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جبرائیل برابر پڑوسی کے بارے میں وصیت و تلقین کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ وہ ہمسایہ کو وارث بنا دیں گے۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3674]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ ﷺ اپنی مرضی سے کوئی شرعی حکم جاری نہیں کرتے تھے بلکہ وحی کے ذریعے سے جو حکم نازل ہوتا تھا اس پر عمل کرتے اور کرواتے تھے۔

(2)
وراثت کے قوانین نصوص پر مبنی ہیں، ان میں قیاس نہیں چلتا۔

(3)
پڑوسی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ حسن سلوک کا خیال رکھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3674 سے ماخوذ ہے۔