سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : بِرِّ الْوَالِدِ وَالإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ باب: باپ کو اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 3669
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُشَانَةَ الْمُعَافِرِيَّ , قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ , وَأَطْعَمَهُنَّ , وَسَقَاهُنَّ , وَكَسَاهُنَّ مِنْ جِدَتِهِ , كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس کے پاس تین لڑکیاں ہوں ، اور وہ ان کے ہونے پر صبر کرے ، ان کو اپنی کمائی سے کھلائے پلائے اور پہنائے ، تو وہ اس شخص کے لیے قیامت کے دن جہنم سے آڑ ہوں گی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´باپ کو اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” جس کے پاس تین لڑکیاں ہوں، اور وہ ان کے ہونے پر صبر کرے، ان کو اپنی کمائی سے کھلائے پلائے اور پہنائے، تو وہ اس شخص کے لیے قیامت کے دن جہنم سے آڑ ہوں گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3669]
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” جس کے پاس تین لڑکیاں ہوں، اور وہ ان کے ہونے پر صبر کرے، ان کو اپنی کمائی سے کھلائے پلائے اور پہنائے، تو وہ اس شخص کے لیے قیامت کے دن جہنم سے آڑ ہوں گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3669]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
بہنوں یا دوسری رشتے دار بچیوں کی پرورش کا بھی یہی ثواب ہے۔
فوائد و مسائل:
بہنوں یا دوسری رشتے دار بچیوں کی پرورش کا بھی یہی ثواب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3669 سے ماخوذ ہے۔