سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : بِرِّ الْوَالِدِ وَالإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ باب: باپ کو اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , عَنْ مِسْعَرٍ , أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ صَعْصَعَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ , قَالَ : دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا , فَأَعْطَتْهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ , فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً , ثُمَّ صَدَعَتِ الْبَاقِيَةَ بَيْنَهُمَا , قَالَتْ : فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَتْهُ , فَقَالَ : " مَا عَجَبُكِ , لَقَدْ دَخَلَتْ بِهِ الْجَنَّةَ " .
´احنف کے چچا صعصعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئی ، تو انہوں نے اس کو تین کھجوریں دیں ، اس عورت نے ایک ایک کھجور دونوں کو دی ، اور تیسری کھجور کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کے درمیان تقسیم کر دی ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں تعجب کیوں ہے ؟ وہ تو اس کام کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گئی “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
احنف کے چچا صعصعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئی، تو انہوں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس عورت نے ایک ایک کھجور دونوں کو دی، اور تیسری کھجور کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کے درمیان تقسیم کر دی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہیں تعجب کیوں ہے؟ وہ تو اس کام کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گئی “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3668]
فوائد و مسائل:
(1)
اولاد سے محبت فطری چیز ہے اور قابل تعریف بھی۔
(2)
بچیوں سے حسن سلوک کا ثواب جنت ہے۔
(3)
اگر زیادہ صدقہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو تھوڑا صدقہ کرنے سے جھجکنا نہیں چاہیے۔