سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : بِرِّ الْوَالِدِ وَالإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ باب: باپ کو اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 3666
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ , عَنْ يَعْلَى الْعَامِرِيِّ , أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ الْحَسَنُ , وَالْحُسَيْنُ يَسْعَيَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ , وَقَالَ : " إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` حسن اور حسین ( رضی اللہ عنہما ) دونوں دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے سینے سے چمٹا لیا ، اور فرمایا : ” یقیناً اولاد بزدلی اور بخیلی کا سبب ہوتی ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی آدمی اولاد کی محبت میں مال خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے، اور اولاد کے لئے مال چھوڑ جانا چاہتا ہے، اور جہاد سے سستی کرتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´باپ کو اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے۔`
یعلیٰ عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) دونوں دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے سینے سے چمٹا لیا، اور فرمایا: ” یقیناً اولاد بزدلی اور بخیلی کا سبب ہوتی ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3666]
یعلیٰ عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) دونوں دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے سینے سے چمٹا لیا، اور فرمایا: ” یقیناً اولاد بزدلی اور بخیلی کا سبب ہوتی ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3666]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اپنے بچوں سے پیار اور شفقت کا اظہار ان کے دل میں بزرگوں سے محبت کا باعث ہے۔
(2)
جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا موقع ہو تو انسان بعض اوقات سوچتا ہے کہ یہ پیسے بچا لیے جائیں، اولاد کے کام آئیں گے۔
اس جذبے پر قابو پانا مشکل ہے، تاہم کوشش کرنی چاہیے کہ اولاد سے محبت کا یہ جذبہ ایک حد تک رہے تاکہ انسان بخیل نہ بن جائے۔
(3)
جب اللہ کی راہ میں جہاد کا موقع ہو تو خیال آتا ہےکہ اگر میں شہید ہو گیا تو بچوں کا کیا بنے گا؟ اس طرح دل میں بزدلی پیدا ہو جاتی ہے۔
(4)
اولاد سے محبت کے جذبات کو شریعت کے احکام کے ماتحت رکھنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اپنے بچوں سے پیار اور شفقت کا اظہار ان کے دل میں بزرگوں سے محبت کا باعث ہے۔
(2)
جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا موقع ہو تو انسان بعض اوقات سوچتا ہے کہ یہ پیسے بچا لیے جائیں، اولاد کے کام آئیں گے۔
اس جذبے پر قابو پانا مشکل ہے، تاہم کوشش کرنی چاہیے کہ اولاد سے محبت کا یہ جذبہ ایک حد تک رہے تاکہ انسان بخیل نہ بن جائے۔
(3)
جب اللہ کی راہ میں جہاد کا موقع ہو تو خیال آتا ہےکہ اگر میں شہید ہو گیا تو بچوں کا کیا بنے گا؟ اس طرح دل میں بزدلی پیدا ہو جاتی ہے۔
(4)
اولاد سے محبت کے جذبات کو شریعت کے احکام کے ماتحت رکھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3666 سے ماخوذ ہے۔