سنن ابن ماجه
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : اتِّخَاذِ الْجُمَّةِ وَالذَّوَائِبِ باب: کان کی لو سے بال نیچے رکھنے اور چوٹیاں رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3633
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ ابْنِ إِسْحَاق , عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْرِقُ خَلْفَ يَافُوخِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ أَسْدِلُ نَاصِيَتَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر چندیا کے پچھلے حصے میں مانگ نکالتی تھی اور سامنے کے بال پیشانی پر لٹکتے چھوڑ دیتی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کان کی لو سے بال نیچے رکھنے اور چوٹیاں رکھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر چندیا کے پچھلے حصے میں مانگ نکالتی تھی اور سامنے کے بال پیشانی پر لٹکتے چھوڑ دیتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3633]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر چندیا کے پچھلے حصے میں مانگ نکالتی تھی اور سامنے کے بال پیشانی پر لٹکتے چھوڑ دیتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3633]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: ممکن ہے یہ اس دور کی بات ہو جب رسول اللہ ﷺسر کے اگلے حصے کے بال کھلے چھوڑتے تھے۔
فوائد ومسائل: ممکن ہے یہ اس دور کی بات ہو جب رسول اللہ ﷺسر کے اگلے حصے کے بال کھلے چھوڑتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3633 سے ماخوذ ہے۔