حدیث نمبر: 3632
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدُلُونَ أَشْعَارَهُمْ , وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ , قَالَ : " فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ , ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` اہل کتاب اپنے بالوں کو پیشانی پر لٹکائے رکھتے تھے ، اور مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی پیشانی پر بال لٹکائے رکھتے ، پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب اللباس / حدیث: 3632
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المناقب 23 ( 3558 ) ، مناقب الأنصار 52 ( 3944 ) ، اللباس 70 ( 5917 ) ، صحیح مسلم/الفضائل 24 ( 2336 ) ، سنن ابی داود/الترجل 10 ( 4188 ) ، سنن الترمذی/الشمائل 3 ( 29 ) ، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 7 ( 5240 ) ، ( تحفة الأشراف : 5836 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/246 ، 261 ، 287 ، 320 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3558 | صحيح البخاري: 3944 | صحيح البخاري: 5917 | صحيح مسلم: 2336 | سنن ابي داود: 4188 | سنن نسائي: 5240

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کان کی لو سے بال نیچے رکھنے اور چوٹیاں رکھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کو پیشانی پر لٹکائے رکھتے تھے، اور مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی پیشانی پر بال لٹکائے رکھتے، پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3632]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
مکہ مکرمہ میں مشرکین کی اکثریت تھی۔
رسول اللہ ﷺ ان سے امتیاز کے لئے اہل کتا ب کا انداز اختیار فرما لیتے تھے۔
جب رسول ﷺ نے ہجرت فرمائی تو مدینہ میں موجود کثیر اہل کتاب سے فرق کرنے کے لئے دوسرا انداز اختیار فرمایا۔

(2)
رسول اللہ ﷺ کا ہر عمل وحی کی روشنی میں ہوتا تھا اس لئے بال مانگ نکالے بغیر کھلے چھوڑنا منسوخ ہے اور مانگ نکالنا مسنون اور ثواب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3632 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3558 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3558. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سر کے بال لٹکائے رکھتے جبکہ مشرکین اپنے سر کے بالوں کی مانگ نکالتے لیکن اہل کتاب اپنے سر کے بالوں کو لٹکاتے تھے۔ اوررسول اللہ ﷺ کو جس بات کے متعلق کوئی حکم نہ آتا تو آپ اس میں اہل کتاب کی موافقت پسند کرتے تھے۔ بعد میں رسول اللہ ﷺ بھی سر میں مانگ نکالنے لگے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3558]
حدیث حاشیہ: اور پیشانی پر لٹکانا چھوڑدیا۔
شاید آپ کو حکم آگیا ہوگا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3558 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3558 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3558. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سر کے بال لٹکائے رکھتے جبکہ مشرکین اپنے سر کے بالوں کی مانگ نکالتے لیکن اہل کتاب اپنے سر کے بالوں کو لٹکاتے تھے۔ اوررسول اللہ ﷺ کو جس بات کے متعلق کوئی حکم نہ آتا تو آپ اس میں اہل کتاب کی موافقت پسند کرتے تھے۔ بعد میں رسول اللہ ﷺ بھی سر میں مانگ نکالنے لگے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3558]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل کتاب کی موافقت اس لیے پسند تھی کہ وہ کم ازکم آسمانی دین پر عمل پیراہونے کے دعویدار تھے اور یہ بھی مقصود تھا کہ شاید وہ اس سلوک سے اسلام کے قریب آجائیں،لیکن جب آپ ان کے اسلام سے مایوس ہوگئے اور ان پر بدبختی غالب آگئی توآپ کو بہت سے معاملات میں ان کی مخالفت کا حکم ہوا۔
صوم یوم عاشوراء استقبال قبلہ،حائضہ عورت سے میل جول اور یوم السبت اسی بنا پر تھی۔
اور مشرکین کے ہاں بت پرستی کاچرچا تھا،اس لیے ان کی مخالفت فرماتے لیکن یہ مخالفت ان معاملات میں ہوتی تھی جن میں سنت ابراہیمی کا پتہ نہ چلتا تھا۔
جب آپ کو کسی معاملے کے متعلق پتہ چل جاتا کہ ایسا کرنا سنتِ ابراہیم ؑ ہے تو مشرکین کی موافقت کی پروا نہیں کرتے تھے،اس کی مثالیں مناسک حج سے واضح ہیں۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالوں میں کنگھی کرکے پیشانی پر چھوڑدیتے تھے لیکن بعد میں مانگ نکالا کرتے تھے۔
(مسند أحمد: 215/3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام سے پہلے خوشبو لگاتے تو اس کی چمک دیر تک آپ کی مانگ میں برقراررہتی جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اب بھی اس چمک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں دیکھ رہی ہوں جو احرام کے وقت لگائی تھی۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1538)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3558 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3944 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3944. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سر کے بال پیشانی پر لٹکاتے تھے جبکہ قریش مانگ نکالتے تھے اور اہل کتاب بھی سر کے بال اپنی پیشانیوں پر لٹکائے رکھتے تھے۔ نبی ﷺ کے پاس جس معاملے کے متعلق اللہ کا حکم نہ آتا تھا آپ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے۔ بعد میں نبی ﷺ مانگ نکالنے لگے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3944]
حدیث حاشیہ: شاید بعد میں آپ کواس کا حکم آگیا ہوگا۔
پیشانی پر بال لٹکانا آپ نے چھوڑ دیا اب یہ نصاریٰ کا طریق رہ گیا ہے۔
مسلمانوں کے لئے لازم ہے کہ صرف اپنے رسول کریم ﷺ کا طور طریق چال چلن اختیار کریں اور دوسروں کی غلط رسموں کو ہر گز اختیار نہ کریں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3944 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3944 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3944. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سر کے بال پیشانی پر لٹکاتے تھے جبکہ قریش مانگ نکالتے تھے اور اہل کتاب بھی سر کے بال اپنی پیشانیوں پر لٹکائے رکھتے تھے۔ نبی ﷺ کے پاس جس معاملے کے متعلق اللہ کا حکم نہ آتا تھا آپ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے۔ بعد میں نبی ﷺ مانگ نکالنے لگے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3944]
حدیث حاشیہ:

اہل کتاب چونکہ ایک سماوی شریعت کے قائل تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس جن کاموں میں اللہ کی طرف سے کوئی حکم نہ آتا تو آپ ان کی موافقت پسند فرماتے۔
پھر جب آپ کو بذریعہ وحی پتہ چلا کہ بالوں میں مانگ نکالنا تو ملتِ ابراہیم ہے تو آپ اس پر عمل پیرا ہوئے۔
پھر آپ نے مشرکین کی موافقت کی کوئی پروانہ کی۔

اس حدیث میں یہود کی ایک رسم کا ذکر ہے جس کی مخالفت کی گئی ہے۔
اسی مناسبت سے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو یہاں ذکر فرمایا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3944 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5917 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5917. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کو کسی مسئلے میں کوئی حکم معلوم نہ ہوتا تو آپ اس میں اہل کتاب کی موافقت کرتے تھے اہل کتاب اپنے بالوں کو لٹکائے رکھتے اور مشرکین مانگ نکالتے تھے، چنانچہ نبی ﷺ نے اپنی پشانی کے بال لٹکائے لیکن اس کے بعد آپ ﷺ مانگ نکالتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5917]
حدیث حاشیہ: ٹھکانے سے سر کے بال مسنون طریقہ پر رکھنا ہر طرح سے بہتر ہے مگر آج کل جو فیشن کی وبا چلی ہے خاص طور پر ہپی ازم بال رکھ کر صورت کو بگاڑ نے کا جو فیشن چل پڑا ہے یہ حددرجہ گناہ اور خلقت الٰہی کو بگاڑنا اور کفار کے ساتھ مشابہت رکھنا ہے۔
نوجوانان اسلام کو ایسی غلط روش کے خلاف جہاد کی سخت ضرورت ہے۔
ایسا فیشن خود غیروں کی نظر میں بھی معیوب ہے، اس لیے مسلمانوں کو ہر گز اسے اختیار نہ کرنا چاہیئے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5917 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5917 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5917. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کو کسی مسئلے میں کوئی حکم معلوم نہ ہوتا تو آپ اس میں اہل کتاب کی موافقت کرتے تھے اہل کتاب اپنے بالوں کو لٹکائے رکھتے اور مشرکین مانگ نکالتے تھے، چنانچہ نبی ﷺ نے اپنی پشانی کے بال لٹکائے لیکن اس کے بعد آپ ﷺ مانگ نکالتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5917]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مانگ نکالنا، اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا۔
اگرچہ مشرکین بھی مانگ نکالا کرتے تھے لیکن آپ نے ان کی موافقت یا اتباع کرتے ہوئے مانگ نہیں نکالی تھی، اس لیے کفار و مشرکین کی وہی مشابہت ناجائز ہے جو ان کا دینی شعار اور خاص قومی علامت ہو، ہاں ٹیڑھی مانگ نکالنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے، بلکہ مغربی تہذیب کے برے اثرات ہیں، لہذا مسلمانوں کو اس عادت بد سے باز رہنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5917 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2336 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، اہل کتاب اپنے بال کھلے چھوڑتے تھے اور مشرک لوگ اپنے سروں کی مانگ نکالتے تھے اور رسول اللہ ﷺ جن کاموں میں حکم نہ آتا، اہل کتاب کی موافقت کو پسند کرتے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے (پہلے) پیشانی پر بال لٹکائے، پھر بعد میں مانگ نکالنے لگے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6062]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
يسدلون: پیشانی پر بال لٹکاتے، کھلے چھوڑتے۔
(2)
يفرقون: مانگ نکالتے۔
فوائد ومسائل: آغاز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کو مانوس کرنے کے لیے جن کاموں میں صریح حکم نہ آتا، وہاں ان کی موافقت کرتے، لیکن جب انہوں نے ہٹ دھرمی اور ضد و عناد کے وطیرہ پر اصرار کیا اور اکثر مشرکین مسلمان ہو گئے تو آپ اہل کتاب کی مخالفت کرنے لگے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2336 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4188 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بال میں مانگ نکالنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کا «سدل» کرتے یعنی انہیں لٹکا ہوا چھوڑ دیتے تھے، اور مشرکین اپنے سروں میں مانگ نکالتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن باتوں میں کوئی حکم نہ ملتا اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے اسی لیے آپ اپنی پیشانی کے بالوں کو لٹکا چھوڑ دیتے تھے پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4188]
فوائد ومسائل:
واضح ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا مانگ نکالنا اللہ کے حکم سےتھا، اگرچہ مشرکین بھی نکالا کرتے تھے۔
پس مشرکین اور کفار کی وہی مشابہت نا جائز ہے جو ان کی دینی اور خاص قومی علامت ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4188 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5240 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´بالوں میں مانگ نکالنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بال چھوڑ دیتے تھے اور کفار و مشرکین بالوں میں مانگ نکالتے تھے، آپ ایسے معاملات میں جن میں کوئی حکم نہ ملتا اہل کتاب (یہود و نصاری) کی موافقت پسند فرماتے تھے، پھر اس کے بعد آپ نے بھی مانگ نکالی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5240]
اردو حاشہ: (1) عادات میں جب تک نہی نہ آئے جواز قائم رہتا ہے۔ چونکہ مانگ نکالنے سے نہی وارد نہیں ہوئی لہٰذا مانگ نکالنا جائز ہے اور نہ نکالنا بھی جائز ہے کیونکہ نکالنے کا حکم وارد نہیں۔ آپ سے مانگ نکالنا بھی ثابت ہے اور نہ نکالنا بھی۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کی بابت شریعت نے کوئی مخصوص حکم نہیں دیا۔ حالات کے تحت دونوں میں سے کسی کو بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ایسے مسائل میں آپ کا اہل کتاب کی موافقت کرنا ان کی تالیف قلب کے لیے تھا کہ شاید وہ اسلام کی طرف مائل ہو جائیں مگر جب محسوس فرمایا کہ ان کے لیے موافقت بھی مفید نہیں تو آپ نے ان کی موافقت چھوڑ دی۔ رسول اللہ ﷺ کو اہل کتاب کی موافقت اس لیے موافقت بھی مفید نہیں توآپ نے ان کی موافقت چھوڑ دی۔ رسول اللہ ﷺ کو اہل کتاب کی موافقت اس لیے بھی پسند تھی کہ وہ کم از کم دعوے کی حد تک ہی سہی سماوی دین پر عمل پیرا ہونے کے دعویدار تھے۔ اس کے برعکس مشرکین تو پکے بت پرست تھے۔
(2) مانگ سر کے درمیان میں نکالنے چاہیے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارکہ درمیان میں مانگ نکالنا ہی تھی۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5240 سے ماخوذ ہے۔