سنن ابن ماجه
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : اتِّخَاذِ الْجُمَّةِ وَالذَّوَائِبِ باب: کان کی لو سے بال نیچے رکھنے اور چوٹیاں رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3631
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , قَالَ : قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ , " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ " , تَعْنِي ضَفَائِرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں ( فتح کے روز ) داخل ہوئے ، تو آپ کے سر میں چار چوٹیاں تھیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ممکن ہے کہ گرد و غبار سے بچنے کے لئے آپ نے بالوں کو گوندھ کر چوٹیاں بنا لی ہوں۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1781 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے مکہ میں داخل ہونے کا بیان۔`
ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اس حال میں آئے کہ آپ کی چار چوٹیاں تھیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1781]
ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اس حال میں آئے کہ آپ کی چار چوٹیاں تھیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1781]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ممکن ہے گرد و غبار سے بالوں کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ نے ایسا کیا ہو، کیوں کہ اس وقت آپ سفر میں تھے۔
وضاحت:
1؎:
ممکن ہے گرد و غبار سے بالوں کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ نے ایسا کیا ہو، کیوں کہ اس وقت آپ سفر میں تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1781 سے ماخوذ ہے۔