سنن ابن ماجه
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : صِفَةِ النِّعَالِ باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی کیسی تھی؟
حدیث نمبر: 3614
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ , قَالَ : " كَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قِبَالَانِ مَثْنِيٌّ شِرَاكُهُمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے ، جو آگے سے دہرے ہوتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: آپ ﷺ چپل پہنتے تھے اور تسموں سے مراد یہ کہ ہر جوتی میں سامنے دو دو حلقے چمڑے کے تھے ایک میں انگوٹھا اور بیچ کی انگلی ڈالتے، اور دوسرے میں باقی انگلیاں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی کیسی تھی؟`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے، جو آگے سے دہرے ہوتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3614]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے، جو آگے سے دہرے ہوتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3614]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
نبی ﷺ کے زمانے کے جوتے کی بناوٹ موجودہ دور کی ہوائی چپل ملتی جلتی ہے۔
اس میں چمڑے کا ایک ٹکڑا (شسع)
انگیوں کے درمیان ہوتا تھا۔
اور اس کا ایک سرا زمام سے بندھا ہوتا تھا۔
زمام کا نام قبال بھی ہوتا ہے۔
(2)
اس قسم کے جوتے میں پاؤں کا اکثر حصہ کھلا رہتا ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ موزوں یا جرابوں پر مسح کرتے وقت پاؤں جوتوں سے نہیں نکالتے تھے بلکہ جوتوں سمیت مسح کر لیتے تھے۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 560، 559)
بلکہ جوتے اتارے بغیر پاؤں بھی دھو بھی لیتے تھے۔ (صحیح البخاري، الوضوء، باب غسل الرجلين في النعلين ولايمسح على النعلين حديث: 166)
فوائد ومسائل: (1)
نبی ﷺ کے زمانے کے جوتے کی بناوٹ موجودہ دور کی ہوائی چپل ملتی جلتی ہے۔
اس میں چمڑے کا ایک ٹکڑا (شسع)
انگیوں کے درمیان ہوتا تھا۔
اور اس کا ایک سرا زمام سے بندھا ہوتا تھا۔
زمام کا نام قبال بھی ہوتا ہے۔
(2)
اس قسم کے جوتے میں پاؤں کا اکثر حصہ کھلا رہتا ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ موزوں یا جرابوں پر مسح کرتے وقت پاؤں جوتوں سے نہیں نکالتے تھے بلکہ جوتوں سمیت مسح کر لیتے تھے۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 560، 559)
بلکہ جوتے اتارے بغیر پاؤں بھی دھو بھی لیتے تھے۔ (صحیح البخاري، الوضوء، باب غسل الرجلين في النعلين ولايمسح على النعلين حديث: 166)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3614 سے ماخوذ ہے۔