حدیث نمبر: 3612
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أُمِّهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا : ” جب مردہ جانوروں کی کھال کو دباغت دے دی جائے ، تو لوگ ا سے فائدہ اٹھائیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب اللباس / حدیث: 3612
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح: 509, أم محمد بن عبد الرحمٰن بن ثوبان: وثقھا ابن حبان و ابن عبد البر و يعقوب بن سفيان الفارسي (المعرفة والتاريخ 349/1۔ 350، 425) فالسند حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/اللباس 41 ( 4124 ) ، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 5 ( 4257 ) ، ( تحفة الأشراف : 17991 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصید 6 ( 18 ) ، مسند احمد ( 6/73 ، 104 ، 148 ، 153 ) ، سنن الدارمی/الأضاحي 20 ( 2030 ) ( صحیح لغیرہ ) » ( نیز ملاحظہ ہو : صحیح موارد الظمآن : 122وغایة المرام : 26 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4124 | معجم صغير للطبراني: 118 | سنن نسائي: 4249 | سنن نسائي: 4250 | سنن نسائي: 4251 | سنن نسائي: 4252 | سنن نسائي: 4257

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4124 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مردہ جانور کی کھال کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کی کھال سے جب وہ دباغت دے دی جائے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4124]
فوائد ومسائل:
حلال جانور اگر مردار ہو جائے تو اس کا چمڑا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4124 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4249 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مردار جانور کی کھال کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مردار کی کھال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس کی دباغت ہی اس کی پاکی ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4249]
اردو حاشہ: دباغت کسی بھی ایسی چیز سے دی جا سکتی ہے جو چمڑے کی رطوبت کو ختم کر دے اور بدبو کو زائل کردے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4249 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4257 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دباغت کی ہوئی مردار جانور کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی رخصت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مردار جانور کی کھال سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جب کہ وہ دباغت دی گئی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4257]
اردو حاشہ: (1) محقق کتاب نے مذکورہ روایت کو سنداََ ضعیف قرار دیا ہے جبکہ یہ روایت دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل حجت اور قابل عمل ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد:504/40 و ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي:46،34/33)
(2) حکم دیا یعنی اجازت اور رخصت دی۔ ممکن ہے حکم ہی مراد ہو کیونکہ مال ضائع کرنے کی اجازت نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4257 سے ماخوذ ہے۔