حدیث نمبر: 3581
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ , عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رُخِّصَ لَهُنَّ فِي الذَّيْلِ ذِرَاعًا , فَكُنَّ يَأْتِيَنَّا فَنَذْرَعُ لَهُنَّ بِالْقَصَبِ ذِرَاعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو کپڑوں کے دامن ایک ہاتھ لٹکانے کی اجازت تھی ، چنانچہ جب وہ ہمارے پاس آتیں تو ہم ان کے لیے لکڑی سے ایک ہاتھ کا ناپ بنا کر دیتے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب اللباس / حدیث: 3581
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون جملة القصب , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (4119), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 506
تخریج حدیث «سنن ابی داود/اللباس 40 ( 4119 ) ، ( تحفة الأشراف : 6661 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/اللباس 9 ( 1731 ) ، مسند احمد ( 2/18 ، 90 ) ( منکر ) » ( سند میں زید العمی ضعیف ہیں ، اور «فكن يأتينا فنذرع لهن» کا لفظ منکر ہے ، پہلا ٹکڑا صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 1864 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4119 | سنن نسائي: 5338

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4119 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عورت کے دامن لٹکانے کی مقدار کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امہات المؤمنین (رضی اللہ عنہن) کو ایک بالشت دامن لٹکانے کی رخصت دی، تو انہوں نے اس سے زیادہ کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے انہیں مزید ایک بالشت کی رخصت دے دی چنانچہ امہات المؤمنین ہمارے پاس کپڑے بھیجتیں تو ہم انہیں ایک ہاتھ ناپ دیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4119]
فوائد ومسائل:
عورتوں کے لئے چادروں کی لمبائی مردوں کی قمیضوں کے مقابلے میں ہے، نہ کہ زمین کے مقابلے میں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4119 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5338 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عورتوں کے دامن کی لمبائی کی حد کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا لٹکایا، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا "، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! تو پھر عورتیں اپنے دامن کیسے رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " وہ اسے ایک بالشت لٹکائیں "، وہ بولیں: تب تو ان کے قدم کھلے رہیں گے؟، آپ نے فرمایا: " تو ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5338]
اردو حاشہ: (1) "ایک بالشت" یعنی نصف پنڈلی سے ایک بالشت نیچے تبھی پاؤں ننگے ہوں گے۔ اگر ٹخنوں سے بالشت نیچے ہو تو پاؤں ڈھانکے جائیں گے۔ "ایک ہاتھ" سے مراد بھی نصف پنڈلی سے نیچے ایک ہاتھ ہے۔ اس صورت میں دامن زمین پرگھسیٹنے لگے گا اور پاؤں بھی ننگے نہیں ہوں گے خواہ عورت چل ہی رہی ہو۔
(2) "ننگے ہوں" گویا عورتوں کے لیے مناسب ہے کہ ان کے قدم ننگے نہ ہوں البتہ قدم ڈھانکنا ضروری نہیں کیونکہ آپ نے ایک بالشت نیچے ہی کو ضروری قرار دیا ہے۔
(3) "ایک ہاتھ" عربی میں لفظ ذراع استعمال کیا گیا ہے یعنی کہنی کی ہڈی کے کنارے سے درمیانی انگلی کے بالائی کنارے تک عربی میں اس فاصلے کو ذراع کہتے ہیں۔ اردو میں اسے ہاتھ کہہ لیتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5338 سے ماخوذ ہے۔