حدیث نمبر: 358
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ اسْتَنْجَى مِنْ تَوْرٍ ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی ، پھر پانی کے برتن سے استنجاء کیا پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑ کر دھویا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ پاخانہ کے بعد ہاتھ مٹی سے مل کر دھونا مسنون ہے، مقصد ہاتھوں کی صفائی و ستھرائی ہے جو مٹی صابن وغیرہ کے استعمال سے ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 358
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الطہارة 24 ( 45 ) ، ( تحفة الأشراف : 14886 ) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الطہارة 43 ( 50 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/311 ، 454 ) ( حسن ) » ( سند میں شریک ضعیف ہیں ، لیکن متابعات وشواہد کی بناء پر حسن ہے ، ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : 35 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´استنجاء کے بعد زمین پر ہاتھ رگڑ کر دھونے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی، پھر پانی کے برتن سے استنجاء کیا پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑ کر دھویا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 358]
اردو حاشہ:
مٹی پر ہاتھ مل کر دھونے سے صفائی زیادہ حاصل ہوتی ہے۔
آج کل اس مقصد کے لیے صابن وغیرہ کا استعمال بھی درست ہے تاہم یہ واجب نہیں۔
صرف پانی سے ہاتھ دھولینا بھی کافی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 358 سے ماخوذ ہے۔