حدیث نمبر: 3543
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ جَمِيعًا , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمَجْذُومِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جذامیوں ( کوڑھیوں ) کی طرف لگاتار مت دیکھو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3543
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6575 ، ومصباح الزجاجة : 1236 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/233 ، 299 ) ( حسن صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جذام (کوڑھ) کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جذامیوں (کوڑھیوں) کی طرف لگاتار مت دیکھو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3543]
اردو حاشہ:
فوائد  ومسائل: (1)
ایسے مریض کو مکمل دیکھنے سے اس کا دل دکھے گا۔
لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

(2)
کسی بھی مصیبت زدہ کو دیکھ کر آہستہ آواز سے یہ دعا پڑھنی چاہیے۔ (اَلْحَمْدُ للهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ وَفَضَّلَنِيْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيْلاً)
اللہ کا شکر ہے کہ جس نے مجھے اس بیماری سے عافیت میں رکھا۔
جس میں تجھے مبتلا کیا۔
اور اپنے پیدا کئے ہوئے بہت سےلوگوں پر مجھے فضیلت بخشی۔
اس کی برکت سے دعا پڑھنے والا اس بیماری سے محفوظ رہے گا۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 3892)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3543 سے ماخوذ ہے۔