حدیث نمبر: 3542
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى , ومحمد بن خلف العسقلاني , قَالُوا : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ مَجْذُومٍ , فَأَدْخَلَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ , ثُمَّ قَالَ : " كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَى اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذامی شخص کا ہاتھ پکڑا ، اور اپنے ساتھ اس کے ہاتھ کو پیالے میں داخل کر دیا ، پھر اس سے کہا : ” کھاؤ ، میں اللہ پر اعتماد اور اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1817 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´کوڑھی کے ساتھ کھانے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ پیالے میں داخل کیا، پھر فرمایا: ” اللہ کا نام لے کر اس پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1817]
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ پیالے میں داخل کیا، پھر فرمایا: ” اللہ کا نام لے کر اس پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1817]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
علماء کا کہنا ہے کہ ایسا آپ نے ان لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا جو اپنے ایمان و توکل میں قوی ہیں، اور ناپسندیدہ امر پر صبر سے کام لیتے ہیں اور اسے قضاء وقدر کے حوالہ کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو ناپسندیدہ امر پرصبر نہیں کرپاتے اور اپنے بارے میں خوف محسوس کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آپﷺ نے یہ فرمایا: (فَرّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ كَمَا تَفرُّ مِنَ الْأَسَدِ) چنانچہ ایسے لوگوں سے بچنا اور اجتناب کرنا مستحب ہے، لیکن واجب نہیں ہے، اور ان کے ساتھ کھانا پینا بیان جواز کے لیے ہے۔
نوٹ:
(سند میں مفضل بصری ضعیف راوی ہیں)
وضاحت:
1؎:
علماء کا کہنا ہے کہ ایسا آپ نے ان لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا جو اپنے ایمان و توکل میں قوی ہیں، اور ناپسندیدہ امر پر صبر سے کام لیتے ہیں اور اسے قضاء وقدر کے حوالہ کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو ناپسندیدہ امر پرصبر نہیں کرپاتے اور اپنے بارے میں خوف محسوس کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آپﷺ نے یہ فرمایا: (فَرّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ كَمَا تَفرُّ مِنَ الْأَسَدِ) چنانچہ ایسے لوگوں سے بچنا اور اجتناب کرنا مستحب ہے، لیکن واجب نہیں ہے، اور ان کے ساتھ کھانا پینا بیان جواز کے لیے ہے۔
نوٹ:
(سند میں مفضل بصری ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1817 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3925 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالہ میں رکھ لیا اور فرمایا: ” اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کر کے کھاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3925]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالہ میں رکھ لیا اور فرمایا: ” اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کر کے کھاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3925]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندََا ضعیف ہے۔
تاہم صاحبِ ایمان و یقین کے لیئے مباح ہے کہ بیمار آدمی کے ساتھ مل کر کھائےاور ایک مسلمان گھرانے اور معاشرے میں کسی مریض کوغیر مسلموں، خصوصاَ ہندیوں کی طرح، بالکل اچھوت بنا چھوڑنا حرام ہے۔
یہ روایت سندََا ضعیف ہے۔
تاہم صاحبِ ایمان و یقین کے لیئے مباح ہے کہ بیمار آدمی کے ساتھ مل کر کھائےاور ایک مسلمان گھرانے اور معاشرے میں کسی مریض کوغیر مسلموں، خصوصاَ ہندیوں کی طرح، بالکل اچھوت بنا چھوڑنا حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3925 سے ماخوذ ہے۔