حدیث نمبر: 3529
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ , قَالَا : حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا اشْتَكَى , يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ : بِالْمُعَوِّذَاتِ , وَيَنْفُثُ , فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ , كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑے تو اپنے اوپر معوذات پڑھتے اور پھونک لیتے ، لیکن جب آپ کا مرض شدت اختیار کر گیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر پڑھتی اور برکت کی امید سے آپ ہی کا ہاتھ آپ پر پھیرتی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3529
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/فصل القرآن 14 ( 5016 ) ، صحیح مسلم/السلام 20 ( 2192 ) ، سنن ابی داود/الطب 19 ( 3902 ) ، ( تحفة الأشراف : 16589 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/العین 4 ( 10 ) ، مسند احمد ( 6/104 ، 181 ، 256 ، 263 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دم (جھاڑ پھونک) کرتے وقت پھونکنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑے تو اپنے اوپر معوذات پڑھتے اور پھونک لیتے، لیکن جب آپ کا مرض شدت اختیار کر گیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر پڑھتی اور برکت کی امید سے آپ ہی کا ہاتھ آپ پر پھیرتی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3529]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
معوذات سے مراد قرآن مجید کی آخری تین سورتیں ہیں۔
یعنی سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس-
(2)
اگر بیماری  ایسی ہو جس کا تعلق پورے جسم سے ہے۔ (مثلا بخار)
یا حفاظت وبرکت کے لئے دم کرنا ہو تو سر سے پاؤں تک پورے جسم پر ہاتھ پھیرنا چاہیے۔

(3)
کسی کو دم کیا جائے تو اس کے جسم پر ہاتھ پھیر ے جایئں۔

(4)
اگر مریض اور دم کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان محرم والا رشتہ ہو یا وہ میاں بیوی ہو ں تو دم کرتے وقت مریض کے جسم پر ہاتھ پھیرنا درست ہے ورنہ اس سے پرہیز کیا جائے۔

(5)
عورت بھی اپنے آپ کو، دوسری عورتوں کو اور محرم مردوں کو یا خاوند کو دم کرسکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3529 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5751 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5751. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی مرض وفات میں معوذات پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔ پھر جب آپ کے لیے دشوار ہوگیا تو میں آپ پر دم کرتی تھی اور برکت کے لیے آپ کا دایاں ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی تھی میں نے ابن شہاب سے پوچھا کہ آپ ﷺ کس طرح دم کیا کرتے تھے؟انہوں نے کہا کہ آپ پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک مارتے، پھر انہیں اپنے چہرہ انور پر پھیرلیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5751]
حدیث حاشیہ: اس طرح معوذات کی تاثیر ہاتھوں میں اثر کرکے پھر چہرے پر بھی تاثرات پیدا کردیتی ہے جو چہرے سے نمایاں ہونے لگتے ہیں اس لیے معوذات کادم کرنا اور ہاتھوں کو چہرے پر پھیر نا بھی مسنون ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5751 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5751 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5751. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی مرض وفات میں معوذات پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔ پھر جب آپ کے لیے دشوار ہوگیا تو میں آپ پر دم کرتی تھی اور برکت کے لیے آپ کا دایاں ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی تھی میں نے ابن شہاب سے پوچھا کہ آپ ﷺ کس طرح دم کیا کرتے تھے؟انہوں نے کہا کہ آپ پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک مارتے، پھر انہیں اپنے چہرہ انور پر پھیرلیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5751]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض وفات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ وہ مجھے دم کریں۔
اس میں وضاحت ہے کہ ہاتھوں پر پھونک مار کر پہلے چہرے پر پھیرے جائیں، پھر جسم پر جہاں تک ہاتھ پہنچ سکیں انہیں پھیرا جائے۔
(صحیح البخاری، حدیث: 5748) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت، مرد پر دم کر سکتی ہے۔
اگر مریض اور دم کرنے والے مرد، عورت کے درمیان محرم والا رشتہ ہو یا وہ میاں بیوی ہوں تو دم کرتے وقت مریض کے جسم پر ہاتھ پھیرنا درست ہے بصورت دیگر ناجائز۔
بہرحال عورت اپنے آپ کو، دوسری عورتوں کو، محرم مردوں اور خاوند کو دم کر سکتی ہے۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5751 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4439 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4439. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوتے تو معوذات سے اپنے بدن پر دم کرتے اور اپنا ہاتھ اپنے بدن پر پھیرتے تھے۔ جب آپ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہوئی تو میں معوذات پڑھ کر آپ پر دم کرتی تھی جس طرح آپ کرتے تھے۔ پھر نبی ﷺ کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4439]
حدیث حاشیہ:

معؤذات سے مراد قرآن مجید کی آخری دو سورتیں ہیں، ویسے معوذہ سے مراد وہ کلمات ہیں جن کے ذریعے سے شیاطین بیماریوں اور دیگر تکلیفوں سے پناہ مانگی جاتی ہے۔
حضرت عائشہ ؓ کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ معوذات پڑھ کر دم کرتیں پھر نبی ﷺ کا برکت والا ہاتھ آپ کے بدن پر پھیرتی تھیں۔

رسول اللہ ﷺ ہر رات ایسا کرتے تھے کہ پہلے آخری تین سورتیں پڑھ کر دم کرتے پھر ہاتھ پر پھونک مار کر اسے بدن پر پھیرتے تھے رسول اللہ ﷺ کا طریقہ کار اس طرح پربیان ہوا ہے کہ جب آپ اپنے بستر پر تشریف لاتے تو آخری تین سورتیں پڑھتے پھر ہاتھوں پر پھونک مار کر انھیں اپنے بدن پر پھیرتے۔
پہلے سر اور چہرے پر پھر جسم کے اگلے حصے پر پھیرتے۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 5017)
دم کا یہ طریقہ امام زہری ؒ نے بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، الطب، حدیث: 5735)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4439 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5735 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5735. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی مرض وفات میں خود پر معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے۔ پھر جب آپ زیادہ بیمار ہوگئے تو میں یہ سورتیں پڑھ کر آپ کو دم کرتی تھی اور برکت کے لیے آپ کا دست مبارک ہی آپ کے جسد اطہر پر پھیرتی تھی(معمر نے کہا) میں نے امام زہری سے پوچھا: آپ ﷺ کس طرح دم کرتے تھے؟تو انہوں نے بتایا کہ آپ ﷺ دم کرکے اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک مارتے، پھر انہیں اپنے چہرہ انور پر پھیر لیتے تھے[صحيح بخاري، حديث نمبر:5735]
حدیث حاشیہ:
(1)
معوذات سے مراد سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس ہیں، انہیں پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونک مارتے، پھر حتی المقدور تمام جسم پر پھیر لیتے۔
پہلے سر اور چہرے کا مسح کرتے، پھر جسم کے اگلے حصے پر پھیرتے، اس طرح تین دفعہ کرتے تھے۔
(صحیح البخاری، فضائل القرآن، حدیث: 5017) (2)
انسان کو اکثر تکالیف، جادو، ٹونہ، حسد و بغض اور شیطان کی شرارتوں اور اس کے وساوس کی وجہ سے آتی ہیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود پر دم کرنے کے لیے معوذات کا انتخاب کرتے تھے کیونکہ ان میں ان تمام چیزوں کا سدباب ہے۔
(3)
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری قرآنی آیات یا ادعیہ ماثورہ سے دم کرنا جائز نہیں، البتہ ترجیح معوذات کو دی جائے کیونکہ ان میں ہر قسم کی تکلیف کا توڑ موجود ہے۔
اس حدیث کا یہ مطلب بھی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض وفات ہی میں معوذات سے دم کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دم زندگی کے آخری وقت تک جاری رہا، منسوخ نہیں ہوا۔
واللہ اعلم (فتح الباری: 10/243)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5735 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5016 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5016. سیدنا عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوئے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اپنے آپ پر دم کرتے پھر جب آپ کی تکلیف زیادہ ہوگئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آپ کے ہاتھوں کو برکت کی امید سے آپ کے جسد اطہر پر پھیرتی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5016]
حدیث حاشیہ: معوذات سے تین سورتیں سورۃ اخلاص، سورۃ فلق، سورۃ الناس مراد ہیں۔
دم پڑھنے کے لئے ان سورتوں کی تاثیر فی الواقع اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔
تعجب ہے ان احمق نام نہاد عالموں پر جو بناوٹی مہمل لفظوں میں چھو منتر کرتے اور قرآنی اکسیر سورتوں سے منہ موڑتے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5016 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5016 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5016. سیدنا عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوئے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اپنے آپ پر دم کرتے پھر جب آپ کی تکلیف زیادہ ہوگئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آپ کے ہاتھوں کو برکت کی امید سے آپ کے جسد اطہر پر پھیرتی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5016]
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض وفات میں ان سورتوں سے خود پر دم کرتے تھے۔
راوی نے امام زہری سے پوچھا کہ آپ کے دم کا کیا طریقہ تھا تو انھوں نے بتایا: انھیں پڑھ کر آپ اپنے ہاتھوں پر پھونک مارتے، پھر ان ہاتھوں کو چہرے پر پھیرلیتے تھے۔
(صحیح البخاري، الطب، حدیث: 5735)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سورتوں کو سوتے وقت پڑھتے تھے جیسا کہ آئندہ روایت (5017)
میں اس کی صراحت ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ابن شہاب زہری سے ایک ہی سند کے ساتھ دو حدیثیں مروی ہیں۔
بعض حضرات نے بیماری کے وقت پڑھنے کو بیان کیا جبکہ کچھ حضرات نے لیٹتے وقت انھیں پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔
(فتح الباري: 79/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5016 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2192 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں سے جب کوئی فرد بیمار ہو جاتا تو آپ اس پر معوذات پڑھ کر پھونک مارتے، سو جب آپ مرض الموت سے دوچار ہوئے تو میں آپ پر پھونک مارتی اور آپ پر آپ ہی کا ہاتھ پھیرتی، کیونکہ آپﷺ کے ہاتھ میں میرے ہاتھ سے برکت زیادہ تھی، یحییٰ بن ایوب کی روایت میں ہے، معوذات سے پھونک مارتی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5714]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: معوذات سے مراد سورہ فلق اور سورہ الناس ہے، یا ان کے ساتھ سورہ اخلاص بھی شامل ہے، جیسا کہ آپ رات سوتے وقت تینوں سے پھونک مارتے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2192 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3902 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جھاڑ پھونک کیسے ہو؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو آپ اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم فرماتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف بڑھ گئی تو میں اسے آپ پر پڑھ کر دم کرتی اور برکت کی امید سے آپ کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3902]
فوائد ومسائل:
1) قرآن کریم روحانی اور عقیدے کی بیماریوں کی شفا ہو نے کے ساتھ ساتھ جسمانی بیماریوں کی بھی شفا ہے۔

2) حدیث میں مذکور برکت قراءت قرآن یا رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک کی ہے یا دونوں ہی مراد ہو سکتی ہیں۔

3) بیوی اپنے شوہر کو دم کر سکتی ہے۔
اگر کوئی عورت کسی غیر محرم مرد کو دم کرے تو ہاتھ نہ پھیرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3902 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 453 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´دم اور اس کے بعد جسم اور ہاتھوں پر پھونک مارنا جائز ہے`
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا اشتكى يقرا على نفسه بالمعوذات وينفث. فلما اشتد وجعه كنت اقرا عليه وامسح عليه بيده رجاء بركتها . . .»
. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو خود اپنے اوپر معوذات (سورة الاخلاص، سورة الفلق اور سورة الناس) دم کر کے پھونک مارتے تھے۔ جب آپ کی بیماری زیادہ شدید ہو جاتی تو میں آپ پر دم کرتی اور آپ (کے جسد مبارک) پر برکت (حاصل کرنے) کے لئے آپ کا ہاتھ پھیرتی تھی . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 453]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 5016، ومسلم 2192/51، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ مسنون دم اور اس کے بعد جسم اور ہاتھوں پر پھونک مارنا جائز ہے۔
➋ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ»
تم میں جو اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکے تو ضرور پہنچائے۔ [صحيح مسلم: 2199 ترقيم دارالسلام: 5727]
● شرکیہ اور کتاب و سنت کے خلاف دم و اذکار جائز نہیں ہیں اور اسی طرح وہ دم و اذکار بھی جائز نہیں ہیں جن کا ترجمہ باوجود کوشش کے معلوم نہ ہو مثلاً للت پی، رکت کچھوی، تاپ تلی باؤ گولہ بروٹ کا دم جائز نہیں ہے۔ وہی اذکار اور دعائیں پڑھنی چاہئیں جو کتاب وسنت اور سلف صالحین سے ثابت ہیں یا پھر کتاب و سنت کے خلاف نہیں ہیں۔
➌ محبوب کبریا سیدنا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم فضل البشر ہونے کے باوجود بیمار ہو جاتے تھے۔
➍ بیماری کا علاج دوا اور دعا دونوں طرح سے مسنون ہے۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار ثابتہ سے تبرک حاصل کرنا جائز بلکہ بہتر ہے۔
➏ دم اور اذکار کے لئے اذن کی شرط کتاب و سنت اور آثار سے ثابت نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 42 سے ماخوذ ہے۔