سنن ابن ماجه
كتاب الطب— کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : مَا يُعَوَّذُ بِهِ مِنَ الْحُمَّى باب: بخار میں پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 3526
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْأَشْهَلِيُّ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْحُمَّى , وَمِنَ الْأَوْجَاعِ كُلِّهَا , أَنْ يَقُولُوا : " بِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيرِ , أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ , وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ " , قَالَ أَبُو عَامِرٍ : أَنَا أُخَالِفُ النَّاسَ فِي هَذَا أَقُولُ : يَعَّارٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بخار اور ہر طرح کے درد کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکھاتے کہ اس طرح کہیں : «بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر عرق نعار ومن شر حر النار» یعنی ” اللہ عظیم کے نام سے ، جوش مارنے والی رگ کے شر سے ، اور جہنم کی گرمی کے شر سے میں اللہ عظیم کی پناہ مانگتا ہوں “ ۔ ابوعامر کہتے ہیں کہ میں اس میں لوگوں کے برخلاف «یعّار» کہتا ہوں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اور لوگ «نعارنون» سے کہتے ہیں یعنی جوش مارنے والا، اور «یعار» کے معنی بدخلق، سخت اور سرکش کے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بخار میں پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بخار اور ہر طرح کے درد کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکھاتے کہ اس طرح کہیں: «بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر عرق نعار ومن شر حر النار» یعنی ” اللہ عظیم کے نام سے، جوش مارنے والی رگ کے شر سے، اور جہنم کی گرمی کے شر سے میں اللہ عظیم کی پناہ مانگتا ہوں۔“ ابوعامر کہتے ہیں کہ میں اس میں لوگوں کے برخلاف «یعّار» کہتا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3526]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بخار اور ہر طرح کے درد کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکھاتے کہ اس طرح کہیں: «بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر عرق نعار ومن شر حر النار» یعنی ” اللہ عظیم کے نام سے، جوش مارنے والی رگ کے شر سے، اور جہنم کی گرمی کے شر سے میں اللہ عظیم کی پناہ مانگتا ہوں۔“ ابوعامر کہتے ہیں کہ میں اس میں لوگوں کے برخلاف «یعّار» کہتا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3526]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس حدیث میں (يَعَّار)
کے لفظ کو (یُعَّار)
بھی پڑھا گیا ہے۔
یہ لفظ (عرارۃ)
’’شدت بد خلقی‘‘سے ماخوذ ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ رگ جو (بیماری یا بخار کی وجہ سے)
شدت اور سختی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
فوائد و مسائل:
اس حدیث میں (يَعَّار)
کے لفظ کو (یُعَّار)
بھی پڑھا گیا ہے۔
یہ لفظ (عرارۃ)
’’شدت بد خلقی‘‘سے ماخوذ ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ رگ جو (بیماری یا بخار کی وجہ سے)
شدت اور سختی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3526 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2075 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بخار کے علاج سے متعلق ایک اور باب۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو بخار اور ہر قسم کے درد میں یہ دعا پڑھنا سکھاتے تھے، «بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر كل عرق نعار ومن شر حر النار» ” میں بڑے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور عظمت والے اللہ کے واسطے سے ہر بھڑکتی رگ اور آگ کی گرمی کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2075]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو بخار اور ہر قسم کے درد میں یہ دعا پڑھنا سکھاتے تھے، «بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر كل عرق نعار ومن شر حر النار» ” میں بڑے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور عظمت والے اللہ کے واسطے سے ہر بھڑکتی رگ اور آگ کی گرمی کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2075]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سندمیں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہیں)
نوٹ:
(سندمیں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2075 سے ماخوذ ہے۔