سنن ابن ماجه
كتاب الطب— کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : مَا عَوَّذَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عُوِّذَ بِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (دوسروں پر) دم کی دعائیں اور آپ پر کئے جانے والے دم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ زِيَادِ بْنِ ثُوَيْبٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي , فَقَالَ لِي : " أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةٍ جَاءَنِي بِهَا جِبْرَائِيلُ ؟ قُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي , بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ , وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ , مِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ , وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے ، تو آپ نے مجھ سے فرمایا : ” کیا میں تم پر وہ دم نہ کروں جو میرے پاس جبرائیل لے کر آئے ؟ “ ، میں نے عرض کیا : ضرور یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ پڑھا : «بسم الله أرقيك والله يشفيك من كل داء فيك من شر النفاثات في العقد ومن شر حاسد إذا حسد» ” اللہ کے نام سے میں تم پر دم کرتا ہوں ، اللہ ہی تمہیں شفاء دے گا ، تمہارے ہر مرض سے ، گرہوں پر پھونکنے والیوں کے شر سے ، اور حاسد کے حسد سے جب وہ حسد کرے “ ۔