حدیث نمبر: 352
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتَنِي عَلَى مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ فَلَا تُسَلِّمْ عَلَيَّ ، فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَمْ أَرُدَّ عَلَيْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا ، اس نے آپ کو سلام کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” جب تم مجھے اس حالت میں دیکھو تو سلام نہ کرو ، اگر تم ایسا کرو گے تو میں جواب نہ دوں گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 352
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبد اللّٰه بن محمد بن عقيل ضعيف, والحديث الآتي (الأصل: 353) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 390
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2374 ، ومصباح الزجاجة : 146 ) ( صحیح ) » ( سوید بن سعید ضعیف راوی ہے ، لیکن ان کی متابعت عیسیٰ بن یونس سے مسند أبی یعلی میں موجود ہے ، اور منتقی ابن الجارود : 1/23 ، میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا شاہد موجود ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´پیشاب کے دوران سلام کا جواب۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس نے آپ کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جب تم مجھے اس حالت میں دیکھو تو سلام نہ کرو، اگر تم ایسا کرو گے تو میں جواب نہ دوں گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 352]
اردو حاشہ:
قضائے حاجت یا پیشاب میں مشغولیت کے موقع پر سلام کا جواب دینا درست نہیں اس لیے بہتر ہے کہ ایسی صورت حال میں سلام نہ کہا جائے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 352 سے ماخوذ ہے۔