حدیث نمبر: 3514
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , أَنَّ خَالِدَةَ بِنْتَ أَنَسٍ أُمَّ بَنِي حَزْمٍ السَّاعِدِيَّةَ : جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ الرُّقَى , فَأَمَرَهَا بِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبکر بن محمد سے روایت ہے کہ` خالدہ بنت انس ام بنی حزم ساعدیہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، اور آپ کے سامنے کچھ منتر پیش کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3514
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 15823 ، ومصباح الزجاجة : 1226 ) ( ضعیف ) » ( محمد بن عمارہ قوی نہیں ہیں )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جائز دم (جھاڑ پھونک) کا بیان۔`
ابوبکر بن محمد سے روایت ہے کہ خالدہ بنت انس ام بنی حزم ساعدیہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ کے سامنے کچھ منتر پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3514]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تھا ’’اپنے دم میرے سامنے پیش کرو دم کرنے میں کوئی حرج نہیں، جب تک اس (کے الفاظ)
میں شرک نہ ہو۔‘‘ (صحیح مسلم، السلام، باب لابأس بالرقي مالم یکن فیه شرک، حدیث: 2200)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3514 سے ماخوذ ہے۔