سنن ابن ماجه
كتاب الطب— کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : مَا رُخِّصَ فِيهِ مِنَ الرُّقَى باب: جائز دم (جھاڑ پھونک) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3513
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ , عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ بُرَيْدَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نظر بد لگنے یا ڈنک لگنے کے سوا کسی صورت میں دم کرنا درست نہیں ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جائز دم (جھاڑ پھونک) کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نظر بد لگنے یا ڈنک لگنے کے سوا کسی صورت میں دم کرنا درست نہیں ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3513]
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نظر بد لگنے یا ڈنک لگنے کے سوا کسی صورت میں دم کرنا درست نہیں ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3513]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سانپ، بھڑ، بچھو وغیرہ کاٹ لے تو دم کروا لینا چاہیے۔
اس مقصد کے لئے سورۃ فاتحہ کا دم زیادہ بہتر ہے۔
(2)
حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ کسی اور بیمار کے لئے دم کروانا جائز نہیں۔
بلکہ ان دو چیزوں کے لئے دم کرنا زیادہ آسان اور زود اثر علاج ہے۔
(3)
دوسری بیماریوں کے لئے دم جائز ہونے کی دلیل باب: 36 اور 37 کی احادیث ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
سانپ، بھڑ، بچھو وغیرہ کاٹ لے تو دم کروا لینا چاہیے۔
اس مقصد کے لئے سورۃ فاتحہ کا دم زیادہ بہتر ہے۔
(2)
حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ کسی اور بیمار کے لئے دم کروانا جائز نہیں۔
بلکہ ان دو چیزوں کے لئے دم کرنا زیادہ آسان اور زود اثر علاج ہے۔
(3)
دوسری بیماریوں کے لئے دم جائز ہونے کی دلیل باب: 36 اور 37 کی احادیث ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3513 سے ماخوذ ہے۔