سنن ابن ماجه
كتاب الطب— کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : مَنِ اسْتَرْقَى مِنَ الْعَيْنِ باب: نظر بد لگنے پر دم کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3510
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ , قَالَ : قَالَتْ أَسْمَاءُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ تُصِيبُهُمُ الْعَيْنُ , فَأَسْتَرْقِي لَهُمْ , قَالَ : " نَعَمْ فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ , سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبید بن رفاعہ زرقی کہتے ہیں کہ` اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : اللہ کے رسول ! جعفر کے بیٹوں کو نظر بد لگ جاتی ہے ، کیا میں ان کے لیے دم کر سکتی ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اگر کوئی چیز لکھی ہوئی تقدیر پر سبقت لے جاتی تو نظر بد لے جاتی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مقصد یہ ہے کہ نظر بد کا اثر نقصان دہ اور تکلیف پہنچانے والا ہوتا ہے، حتی کہ تقدیر کے خلاف اگر کوئی چیز پیش آ سکتی ہے اور وہ نقصان پہنچا سکتی ہے تو وہ نظر بد ہے، جس سے بچنے کے لئے نبی اکرم ﷺ معوذتین «قُل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھتے جو ہر بلا اور ہر بدنظری سے بچنے کے لئے مجرب ہیں، لبید بن عاصم یہودی نے جب رسول اکرم ﷺ پر جادو کر دیا تھا تو آپ ﷺ کے کہنے پر وہ گرہ دار بال بھی ایک اندھے کنویں سے منگوایا گیا، ایک ایک آیت ان سورتوں کی آپ ﷺ پڑھتے جاتے تھے، اور ایک ایک گرہ کھلتی جاتی تھی، یہاں تک کہ سب گرہیں کھل گئیں، اور لبید یہودی کا سحر باطل ہوا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نظر بد لگنے پر دم کرنے کا بیان۔`
عبید بن رفاعہ زرقی کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! جعفر کے بیٹوں کو نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے دم کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں، اگر کوئی چیز لکھی ہوئی تقدیر پر سبقت لے جاتی تو نظر بد لے جاتی “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3510]
عبید بن رفاعہ زرقی کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! جعفر کے بیٹوں کو نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے دم کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں، اگر کوئی چیز لکھی ہوئی تقدیر پر سبقت لے جاتی تو نظر بد لے جاتی “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3510]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت جعفر طیارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (بن ابی طالب)
کے بیٹے حضر ت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اپنے بیٹے ہیں۔
حضرت جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہ 8 ہجری میں غزوہ موتہ میں شہید ہوگئے تو اسماء سے حضرت ابو بکررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نکاح کرلیا اس لئے انھوں نے جعفر کے بیٹے فرمایا، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد اس خاتون سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نکاح کرلیا تھا۔
(2)
نظر یا بیماری کی وجہ سے دم کرنا اور کروانا جائز ہے۔
بشرط یہ کہ دم میں شرکیہ اور بے معنی مہمل الفاظ نہ ہوں۔
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت جعفر طیارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (بن ابی طالب)
کے بیٹے حضر ت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اپنے بیٹے ہیں۔
حضرت جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہ 8 ہجری میں غزوہ موتہ میں شہید ہوگئے تو اسماء سے حضرت ابو بکررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نکاح کرلیا اس لئے انھوں نے جعفر کے بیٹے فرمایا، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد اس خاتون سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نکاح کرلیا تھا۔
(2)
نظر یا بیماری کی وجہ سے دم کرنا اور کروانا جائز ہے۔
بشرط یہ کہ دم میں شرکیہ اور بے معنی مہمل الفاظ نہ ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3510 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 332 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
332- سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہا کے بچوں کو نظر لگ جاتی ہے، تو کیا میں انہیں دم کردیا کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جاسکتی، تو نظر لگنا اس سے سبقت لے جاتا۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:332]
فائدہ:
اس حدیث سے دم کا جواز ثابت ہوتا ہے، نظر یا کسی بھی بیماری کا دم سے علاج کرنا مسنون ہے۔ بعض لوگوں نے دم کو ذریعہ آمدنی بنا رکھا ہے، وہ فی دم (300) روپے لیتے ہیں، اور بعض مریضوں کو ڈرا دھمکا کر اور غائب کا دعوی کر کے 30 ہزار تک ایک دم کا بٹورتے ہیں۔ ایسے دم کرنے والوں سے دور رہنا چاہیے، یہ آپ کے ایمان اور مال کولوٹنے والے ہیں۔ تقدیر برحق ہے، یہ بھی ثابت ہوا کہ تقدیر سے کوئی چیز سبقت نہیں لے جاسکتی، جو کچھ بندوں نے کرنا تھا، وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے، اور وہی لکھا ہوا ہے، اس کو تقدیر کہتے ہیں۔
اس حدیث سے دم کا جواز ثابت ہوتا ہے، نظر یا کسی بھی بیماری کا دم سے علاج کرنا مسنون ہے۔ بعض لوگوں نے دم کو ذریعہ آمدنی بنا رکھا ہے، وہ فی دم (300) روپے لیتے ہیں، اور بعض مریضوں کو ڈرا دھمکا کر اور غائب کا دعوی کر کے 30 ہزار تک ایک دم کا بٹورتے ہیں۔ ایسے دم کرنے والوں سے دور رہنا چاہیے، یہ آپ کے ایمان اور مال کولوٹنے والے ہیں۔ تقدیر برحق ہے، یہ بھی ثابت ہوا کہ تقدیر سے کوئی چیز سبقت نہیں لے جاسکتی، جو کچھ بندوں نے کرنا تھا، وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے، اور وہی لکھا ہوا ہے، اس کو تقدیر کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 332 سے ماخوذ ہے۔