حدیث نمبر: 3502
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا فَائِدٌ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ , حَدَّثَنِي مَوْلَايَ عُبَيْدُ اللَّهِ , حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي سَلْمَى أُمُّ رَافِعٍ مَوْلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : كَانَ لَا يُصِيبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرْحَةٌ , وَلَا شَوْكَةٌ , إِلَّا " وَضَعَ عَلَيْهِ الْحِنَّاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی سلمیٰ ام رافع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی زخم لگتا ، یا کانٹا چبھتا تو آپ اس پر مہندی لگاتے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3502
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (3858) ترمذي (2054), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الطب 3 ( 3858 ) ، سنن الترمذی/الطب 13 ( 2054 ) ، ( تحفة الأشراف : 15893 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/462 ) ( حسن ) » ( سند میں عبیداللہ لین الحدیث ہیں ، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث حسن ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2054 | سنن ابي داود: 3858

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مہندی کا بیان۔`
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی سلمیٰ ام رافع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی زخم لگتا، یا کانٹا چبھتا تو آپ اس پر مہندی لگاتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3502]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن بھی قرار دیا ہے۔
اور تحسین حدیث والی رائے ہی درست معلوم ہوتی ہے۔
لہٰذا اگر کوئی شخص مہندی سےزخم وغیرہ کا علاج کرنا چاہتا ہے تو جائز ہے۔
واللہ اعلم۔
جیسا کہ اطباء وغیرہ میں یہ بات معروف ہے۔
کہ مہندی زخم کو ٹھنڈک پہنچا کر خشک کرتی ہے۔
اس لئے معمولی زخم کا علاج اس سے کیا جاسکتا ہے۔

(2)
ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر مہندی لگانا عورتوں کی زینت ہے۔
اس لئے مردوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
تاکہ عورتوں سے مشابہت نہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3502 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3858 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سینگی (پچھنا) لگوانے کا بیان۔`
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ سلمی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جو شخص بھی اپنے سر درد کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا آپ اسے فرماتے: سینگی لگواؤ اور جو شخص اپنے پیروں میں درد کی شکایت لے کر آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے: ان میں خضاب (مہندی) لگاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3858]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے، تاہم مردوں کو بغرض علاج پاؤں میں مہندی لگا لینا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3858 سے ماخوذ ہے۔