حدیث نمبر: 3496
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " عَلَيْكُمْ بِالْإِثْمِدِ عِنْدَ النَّوْمِ , فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” سوتے وقت اثمد کا سرمہ ضرور لگاؤ ، کیونکہ اس سے نظر ( نگاہ ) تیز ہوتی ہے اور بال اگتے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3496
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إسماعيل بن مسلم ضعيف, و للحديث شواھد قوية دون قوله: ’’ عند النوم ‘‘ انظر الحديث الآتي (الأصل: 3497), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3008 ، ومصباح الزجاجة : 1220 ) ( صحیح ) » ( سند اسماعیل بن مسلم ضعیف راوی ہے ، لیکن متابعت کثیرہ کی وجہ سے حدیث صحیح ہے کما تقدم )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اثمد کا سرمہ لگانے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سوتے وقت اثمد کا سرمہ ضرور لگاؤ، کیونکہ اس سے نظر (نگاہ) تیز ہوتی ہے اور بال اگتے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3496]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
سوتے وقت سرمہ لگانے کا یہ فائد ہ ہے۔
کہ رات بھر آنکھوں میں لگا رہنے کی وجہ سے اچھی طرح اثر کرتاہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3496 سے ماخوذ ہے۔