حدیث نمبر: 3491
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ , حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْأَفْطَسُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : " الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثٍ : شَرْبَةِ عَسَلٍ , وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ , وَكَيَّةٍ بِنَارٍ , وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ , رَفَعَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` شفاء تین چیزوں میں ہے : گھونٹ بھر شہد پینے میں ، پچھنا لگانے میں اور انگار سے ہلکا سا داغ دینے میں ، اور میں اپنی امت کو داغ دینے سے منع کرتا ہوں ، یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مرفوع روایت کی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3491
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الطب 3 ( 5680 ، 5681 ) ، ( تحفة الأشراف : 5509 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´آگ یا لوہا سے بدن داغنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ شفاء تین چیزوں میں ہے: گھونٹ بھر شہد پینے میں، پچھنا لگانے میں اور انگار سے ہلکا سا داغ دینے میں، اور میں اپنی امت کو داغ دینے سے منع کرتا ہوں، یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مرفوع روایت کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3491]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
علاج کے لئے شہد اور احادیث میں مذکور دوسری دواؤں سے علاج کو ترجیح دینی چاہیے۔

(2)
اگرشہد وغیرہ سے فائدہ نہ ہو تو سینگی لگوالی جائے یہ بھی جائز علاج ہے۔

(4)
آگ سے جسم کو داغنا اگرچہ ایک اچھا علاج ہے۔
تاہم اس سے پرہیز بہترہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3491 سے ماخوذ ہے۔