سنن ابن ماجه
كتاب الطب— کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : مَوْضِعِ الْحِجَامَةِ باب: حجامت (پچھنا لگوانے) کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3485
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ عَلَى جِذْعٍ , فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ " , قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَيْهَا مِنْ وَثْءٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اپنے گھوڑے سے کھجور کے درخت کی پیڑی پر گر پڑے ، اس سے آپ کے پیر میں موچ آ گئی ۔ وکیع کہتے ہیں : مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف درد کی وجہ سے وہاں پر پچھنا لگوایا ۔
وضاحت:
۱؎: «وثء» : عربی میں اس درد کو کہتے جو کسی عضو میں عضو ٹوٹنے کے بغیر پیدا ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حجامت (پچھنا لگوانے) کی جگہ کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اپنے گھوڑے سے کھجور کے درخت کی پیڑی پر گر پڑے، اس سے آپ کے پیر میں موچ آ گئی۔ وکیع کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف درد کی وجہ سے وہاں پر پچھنا لگوایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3485]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اپنے گھوڑے سے کھجور کے درخت کی پیڑی پر گر پڑے، اس سے آپ کے پیر میں موچ آ گئی۔ وکیع کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف درد کی وجہ سے وہاں پر پچھنا لگوایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3485]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
پاؤں میں موچ آجائے یاجوڑ کی ہڈی اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو سینگی لگوانا مفید ہے۔
(2)
حادثاتی طور پراگر چوٹ آنے سے اگر زخم نہ آئے تو خون چوٹ کی جگہ جم کر تکلیف کا باعث بنتا ہے۔
اس صورت میں سینگی لگوانے سے متاثرہ حصے میں دوران خون کا نظام درست ہوجاتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
پاؤں میں موچ آجائے یاجوڑ کی ہڈی اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو سینگی لگوانا مفید ہے۔
(2)
حادثاتی طور پراگر چوٹ آنے سے اگر زخم نہ آئے تو خون چوٹ کی جگہ جم کر تکلیف کا باعث بنتا ہے۔
اس صورت میں سینگی لگوانے سے متاثرہ حصے میں دوران خون کا نظام درست ہوجاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3485 سے ماخوذ ہے۔