حدیث نمبر: 3478
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ , يَذْهَبُ بِالدَّمِ , وَيُخِفُّ الصُّلْبَ , وَيَجْلُو الْبَصَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پچھنا لگانے والا بہت بہتر شخص ہے کہ وہ خون نکال دیتا ہے ، کمر کو ہلکا اور نگاہ کو تیز کرتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3478
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2053), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الطب 12 ( 2053 ) ، ( تحفة الأشراف : 2053 ) ( ضعیف ) » ( سند میں عباد بن منصور صدوق اور مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ، نیز آخری عمر میں حافظہ میں تبدیلی آ گئی تھی ، ترمذی نے حدیث کی تحسین کی ہے ، اور حاکم نے تصحیح ، اور ان کی موافقت ذہبی نے ایک جگہ ( 4؍212 ) کی ہے ، اور دوسری جگہ نہیں ( 4؍410 ) ، البانی صاحب نے اس کو ذہبی کا وہم بتایا ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 2036 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2053

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2053 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´پچھنا لگوانے کا بیان۔`
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس پچھنا لگانے والے تین غلام تھے، ان میں سے دو ابن عباس اور ان کے اہل و عیال کے لیے غلہ حاصل کرتے تھے اور ایک غلام ان کو اور ان کے اہل و عیال کو پچھنا لگاتا تھا، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والا غلام کیا ہی اچھا ہے، وہ (فاسد) خون کو دور کرتا ہے، پیٹھ کو ہلکا کرتا ہے، اور آنکھ کو صاف کرتا ہے۔‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے یہ ضرور کہا کہ تم پچھنا ضرور لگواؤ، آپ نے فرمایا: تمہارے پچھنا لگوانے کا سب سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2053]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سندمیں عباد بن منصور مدلس اور مختلط راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2053 سے ماخوذ ہے۔