حدیث نمبر: 3469
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : ذُكِرَتِ الْحُمَّى عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّهَا رَجُلٌ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبَّهَا , فَإِنَّهَا تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بخار کا ذکر آیا تو ایک شخص نے بخار کو گالی دی ( برا بھلا کہا ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے گالی نہ دو ( برا بھلا نہ کہو ) اس لیے کہ اس سے گناہ اس طرح ختم ہو جاتے ہیں جیسے آگ سے لوہے کا کچرا صاف ہو جاتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3469
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ:
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12270 ، ومصباح الزجاجة : 1208 ) ( صحیح ) ( تراجع الألبانی : رقم : 394 ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بخار کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بخار کا ذکر آیا تو ایک شخص نے بخار کو گالی دی (برا بھلا کہا)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے گالی نہ دو (برا بھلا نہ کہو) اس لیے کہ اس سے گناہ اس طرح ختم ہو جاتے ہیں جیسے آگ سے لوہے کا کچرا صاف ہو جاتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3469]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بیماری پر صبر کرناچاہیے برا بھلا کہنے کی بجائے دعا اور دوا کی طرف توجہ کی جائے۔

(2)
بیماری اور مصیبت پرصبر کرنے سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3469 سے ماخوذ ہے۔