حدیث نمبر: 3451
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَهْلٍ , حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : " أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَسَلٌ , فَقَسَمَ بَيْنَنَا لُعْقَةً لُعْقَةً فَأَخَذْتُ لُعْقَتِي , ثُمَّ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَزْدَادُ أُخْرَى , قَالَ : نَعَمْ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شہد ہدیہ میں آیا تو آپ نے تھوڑا تھوڑا ہم سب کے درمیان تقسیم فرمایا ، مجھے اپنا حصہ ملا تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں مزید لے سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3451
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو حمزة إسحاق بن الربيع ضعفه الجمهور و مع ذلك قال الحافظ: ’’ صدوق تكلم فيه للقدر ‘‘ (تقريب: 352), وضعفه راجح والحسن عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2228 ، ومصباح الزجاجة : 1199 ) ( ضعیف ) » ( سند میں ابوحمزہ ، عمر بن سہل ضعیف ہیں ، اور حسن بصری کا جابر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´شہد کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شہد ہدیہ میں آیا تو آپ نے تھوڑا تھوڑا ہم سب کے درمیان تقسیم فرمایا، مجھے اپنا حصہ ملا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں مزید لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3451]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
لعقۃ سے مراد شہد کی وہ مقدار ہے جوانگلی یا چمچے سے ایک بار لے کر چاٹ لی جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3451 سے ماخوذ ہے۔