سنن ابن ماجه
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الشُّرْبِ بِالأَكُفِّ وَالْكَرْعِ باب: پانی چلو سے پینے اور منہ لگا کر پینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْرَبَ عَلَى بُطُونِنَا وَهُوَ الْكَرْعُ , وَنَهَانَا أَنْ نَغْتَرِفَ بِالْيَدِ الْوَاحِدَةِ , وَقَالَ : " لَا يَلَغْ أَحَدُكُمْ كَمَا يَلَغُ الْكَلْبُ , وَلَا يَشْرَبْ بِالْيَدِ الْوَاحِدَةِ كَمَا يَشْرَبُ الْقَوْمُ الَّذِينَ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ , وَلَا يَشْرَبْ بِاللَّيْلِ مِنْ إِنَاءٍ حَتَّى يُحَرِّكَهُ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِنَاءً مُخَمَّرًا , وَمَنْ شَرِبَ بِيَدِهِ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى إِنَاءٍ يُرِيدُ التَّوَاضُعَ , كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِعَدَدِ أَصَابِعِهِ حَسَنَاتٍ , وَهُوَ إِنَاءُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام إِذْ طَرَحَ الْقَدَحَ , فَقَالَ , أُفٍّ هَذَا مَعَ الدُّنْيَا " .
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اوندھے منہ پیٹ کے بل لیٹ کر پینے سے منع فرمایا ہے ، اور یہی «کرع» ہے ، اور ہمیں اس بات سے بھی منع فرمایا کہ ایک ہاتھ سے چلو لیں ، اور ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کوئی کتے کی طرح برتن میں منہ نہ ڈالے ، اور نہ ایک ہاتھ سے پئے ، جیسا کہ وہ لوگ پیا کرتے تھے جن سے اللہ ناراض ہوا ، رات میں برتن کو ہلائے بغیر اس میں سے نہ پئے مگر یہ کہ وہ ڈھکا ہوا ہو ، اور جو شخص محض عاجزی و انکساری کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے پانی پیتا ہے حالانکہ وہ برتن سے پینے کی استطاعت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی انگلیوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھتا ہے ، یہی عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا برتن تھا جب انہوں نے یہ کہہ کر پیالہ پھینک دیا : اف ! یہ بھی دنیا کا سامان ہے “ ۔