حدیث نمبر: 3429
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُنْفَخَ فِي الْإِنَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأشربة / حدیث: 3429
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث (3288), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
تخریج حدیث «( انظر حدیث رقم : 3288 ) ، ( تحفة الأشراف : 6149 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1888

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مشروب میں پھونکنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3429]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر پانی میں کوئی تنکا وغیرہ گر جائے تو اسے کسی چیز (چمچ وغیرہ)
سے نکال دیا جائے یا تھوڑا سا پانی انڈیل دیا جائےتاکہ تنکا نکل جائے۔

(2)
اگر دودھ یا چائے وغیرہ گرم ہو تو ٹھنڈا کرنے کےلئے بھی پھونک مارنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
دوسرے برتن میں تھوڑا تھوڑا ڈال کر پی لیں۔

(3)
بعض علماء نے اس سے دلیل لی ہے کہ بیمار کے لئے کوئی سورت یا دعاء پڑھ کر پانی میں دم نہیں کرنا چاہیے بلکہ براہ راست مریض کودم کرنا چاہیے۔
اوردعا کرنی چاہیے۔
کیونکہ یہ دونوں عمل مسنون ہیں جبکہ پانی میں دم کرنا مسنون نہیں۔
اور بعض علماء کے نزدیک پانی میں دم کرنا جائز ہے۔
کیونکہ دم میں سورۃ فاتحہ اور دعایئں وغیرہ پڑھی جاتی ہیں۔
ان کے اثرات کو پانی میں منتقل کرنے کےلئے پانی میں دم کئے بغیرچارہ نہیں اس لئے ان کے نزدیک بطور پانی میں پھونک مارنا عام پھونک مارنے سے مختلف ہے۔
عام حالات میں پھونک مارنا یقیناً ممنوع ہے۔
لیکن بطور دم پھونک مارنا جائز ہے۔
واللہ اعلم۔ (دیکھئے مضمون: کیا پانی پر دم کرنا جائز نہیں از حافظ صلاح الدین یوسف شائع شدہ الاعتصام جلد: 55 شمارہ 30 یکم اگست 2003 وفتاویٰ الدین الخالص (عربی)
مولانا امین اللہ پشاوری ج: 5 ص: 40 44)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3429 سے ماخوذ ہے۔