حدیث نمبر: 3425
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ , وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ , وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ فَشَرِبَ , ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ , وَقَالَ : " الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا جس میں پانی ملا ہوا تھا ، اس وقت آپ کے دائیں جانب ایک اعرابی اور آپ کے بائیں جانب ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا ، پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا : ” دائیں طرف والے کو دینا چاہیئے ، پھر وہ اپنے دائیں طرف والے کو دے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: حالانکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا درجہ اس اعرابی سے بہت زیادہ تھا مگر آپ ﷺ نے داہنے کی رعایت مقام و مرتبت پر مقدم رکھی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأشربة / حدیث: 3425
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأشربة 14 ( 5612 ) ، 18 ( 5619 ) ، المساقاة 1 ( 2352 ) ، الھبة 4 ( 2571 ) ، صحیح مسلم/الأشربة 17 ( 2029 ) ، سنن ابی داود/الأشربة 19 ( 3726 ) ، سنن الترمذی/الأشربة 19 ( 1893 ) ، ( تحفة الأشراف : 1528 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ 9 ( 17 ) ، مسند احمد ( 3/110 ، 113 ، 197 ) ، سنن الدارمی/الأشربة 18 ( 2162 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2352 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2352. حضرت انس ؓ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک گھریلو بکری کو دوہاگیا اور وہ بکری حضرت انس ؓ کے گھر میں تھی۔ اس میں ایک کنویں کا پانی ملایا گیا جو حضرت انس ؓ کے گھر میں تھا۔ پھر وہ پیالہ رسول اللہ ﷺ کو پیش کیا گیا۔ آپ نے اس سے نوش فرمایا تاآنکہ آپ نے اپنے دہن(منہ) مبارک سے اسے علیحدہ کیا آپ کی بائیں جانب حضرت ابو بکر ؓ تھے اور دائیں جانب ایک دیہاتی تھا۔ حضرت عمر ؓ نے اس اندیشے کے پیش نظر کہ آپ ﷺ اس دیہاتی کو پیالہ دے دیں گے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ!پیالہ ابو بکر ؓ کو دیجیے وہ آپ کے پاس ہیں۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے وہ پیالہ اعرابی کو دے دیا جو آپ کے دائیں جانب تھا۔ پھر آپ نے فرمایا: ’’دائیں جانب والا زیادہ حقدار ہے، پھر جو اس کے دائیں جانب ہو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2352]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سے بھی پانی کا تقسیم یا ہبہ کرنا ثابت ہوا۔
اور یہ بھی ثابت ہوا کہ اسلام میں حق کے مقابلہ پر کسی کے لیے رعایت نہیں ہے۔
کوئی کتنی ہی بڑی شخصیت کیوں نہ ہو۔
حق اس سے بھی بڑا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بزرگی میں کس کو شک ہو سکتا ہے مگر آنحضرت ﷺ نے آپ کو نظر انداز فرما کر دیہاتی کو وہ پانی دیا اس لیے کہ قانون دیہاتی ہی کے حق میں تھا۔
امام عادل کی یہی شان ہونی چاہئیے۔
اور ﴿اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى﴾ (المائدة: 8)
کا بھی یہی مطلب ہے۔
یہاں اس دیہاتی سے اجازت بھی نہیں لی گئی جیسے کہ ابن عباس ؓ سے لی گی تھی۔
اس ڈر سے کہ کہیں دیہاتی بد دل نہ ہوجائے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2352 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2352 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2352. حضرت انس ؓ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک گھریلو بکری کو دوہاگیا اور وہ بکری حضرت انس ؓ کے گھر میں تھی۔ اس میں ایک کنویں کا پانی ملایا گیا جو حضرت انس ؓ کے گھر میں تھا۔ پھر وہ پیالہ رسول اللہ ﷺ کو پیش کیا گیا۔ آپ نے اس سے نوش فرمایا تاآنکہ آپ نے اپنے دہن(منہ) مبارک سے اسے علیحدہ کیا آپ کی بائیں جانب حضرت ابو بکر ؓ تھے اور دائیں جانب ایک دیہاتی تھا۔ حضرت عمر ؓ نے اس اندیشے کے پیش نظر کہ آپ ﷺ اس دیہاتی کو پیالہ دے دیں گے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ!پیالہ ابو بکر ؓ کو دیجیے وہ آپ کے پاس ہیں۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے وہ پیالہ اعرابی کو دے دیا جو آپ کے دائیں جانب تھا۔ پھر آپ نے فرمایا: ’’دائیں جانب والا زیادہ حقدار ہے، پھر جو اس کے دائیں جانب ہو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2352]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث میں ہے کہ تمام مسلمان نمک، گھاس اور پانی میں شریک ہیں۔
(سنن ابن ماجة، الرھون، حدیث: 2472)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ پانی میں کسی کی ملکیت نہیں ہوتی۔
امام بخاری ؒ نے اس موقف کی تردید فرمائی اور ثابت کیا کہ پانی میں ملکیت جاری ہوتی ہے اور اس کا صدقہ کرنا یا ہبہ کرنا جائز ہے جیسا کہ حدیث بالا سے واضح ہے۔
مسلمان پانی، گھاس اور نمک میں شریک ہیں، اس کا مطلب شرکت ملک نہیں بلکہ شرکت اباحت ہے، یعنی ان میں اجارہ داری نہیں کوئی بھی پہلے جا کر اسے استعمال کر سکتا ہے، اپنے برتن میں ڈال سکتا ہے، اپنے مویشیوں کے لیے کاٹ سکتا ہے۔
(عمدة القاري: 52/9) (2)
رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر اعرابی کے حق کو مقدم رکھا اور یہی ہونا چاہیے تھا۔
اگر آپ حضرت عمر ؓ کا مشورہ قبول کر لیتے تو اس سے یہ اصول بن جاتا کہ بڑوں کے ہوتے ہوئے چھوٹوں کا حق نہیں رہتا لیکن دین اسلام میں حق کے مقابلے میں کسی کے لیے رعایت نہیں۔
کوئی کتنا بڑا ہو، حق اس سے بھی بڑا ہے، اگر وہ کسی چھوٹے کو پہنچتا ہے تو بڑوں کا فرض ہے کہ اسے فراخ دلی سے منتقل ہونے دیں، لیکن اس دور میں اس قسم کا ایثار کرنا بہت کم ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2352 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2571 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2571. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہمارے اس گھر میں تشریف لائے تو آپ نے پانی طلب فرمایا۔ ہم نے آپ کے لیے ایک بکری کادودھ نکالا، پھر میں نے اس میں اپنے کنویں کاپانی ملایا۔ اسکے بعد اسے آپ کی خدمت میں پیش کیا جبکہ حضرت ابو بکر ؓ آپ کی بائیں جانب، حضرت عمرفاروق ؓ آپ کے سامنے اور ایک اعرابی آپ کی دائیں طرف تھا۔ جب آپ نوش فرماکر فارغ ہوئے تو حضرت عمر فاروق ؓ نے عرض کیا: یہ حضرت ابوبکر ؓ ہیں، لیکن آپ نے اپنا بچا ہوا دودھ اعرابی کو دے دیا، پھر فرمایا: ’’دائیں جانب والے مقدم ہیں۔ دائیں جانب والے مقدم ہیں۔ اچھی طرح سن لو!دائیں جانب سے شروع کیاکرو۔‘‘ حضرت انس ؓ نے فرمایا: یہ سنت ہے۔ یہ سنت ہے تین مرتبہ ایسا فرمایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2571]
حدیث حاشیہ: مقصد باب اور خلاصہ حدیث واردہ یہ ہے کہ ہر انسان کے لیے اس کی مجلس زندگی میں دوست احباب کے ساتھ بے تکلفی کے بہت سے مواقع آجاتے ہیں۔
شریعت اسلامیہ اس بارے میں تنگ نظر نہیں ہے، اس نے ایسے مواقع کے لیے ہر ممکن سہولتیں دی ہیں جو معیوب نہیں ہیں۔
مثلاً اپنے دوست احباب سے پانی پلانے کی فرمائش کرنا جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت انس ؓ کے یہاں تشریف لاکر پانی طلب فرمایا۔
حضرت انس ؓ بھی مزاج رسالت کے قدر داں تھے۔
انہوں نے پانی اور دودھ ملاکر لسی بناکر پیش کردیا۔
آداب مجلس کا یہاں دوسرا واقعہ وہ پیش آیا جو روایت میں مذکور ہے۔
حضرت انس ؓ نے سنت رسول ﷺ کے اظہار اور اس کی اہمیت بتلانے کے لیے تین بار یہ لفظ دہرائے۔
واقعہ یہی ہے کہ سنت رسول ﷺ کی بڑی اہمیت ہے خواہ وہ سنت کتنی ہی چھوٹی کیو ں نہ ہو۔
فدائیان رسول ﷺ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت ہر کام میں سنت رسول ﷺ کو سامنے رکھیں، اسی میں دارین کی بھلائی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2571 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2571 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2571. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہمارے اس گھر میں تشریف لائے تو آپ نے پانی طلب فرمایا۔ ہم نے آپ کے لیے ایک بکری کادودھ نکالا، پھر میں نے اس میں اپنے کنویں کاپانی ملایا۔ اسکے بعد اسے آپ کی خدمت میں پیش کیا جبکہ حضرت ابو بکر ؓ آپ کی بائیں جانب، حضرت عمرفاروق ؓ آپ کے سامنے اور ایک اعرابی آپ کی دائیں طرف تھا۔ جب آپ نوش فرماکر فارغ ہوئے تو حضرت عمر فاروق ؓ نے عرض کیا: یہ حضرت ابوبکر ؓ ہیں، لیکن آپ نے اپنا بچا ہوا دودھ اعرابی کو دے دیا، پھر فرمایا: ’’دائیں جانب والے مقدم ہیں۔ دائیں جانب والے مقدم ہیں۔ اچھی طرح سن لو!دائیں جانب سے شروع کیاکرو۔‘‘ حضرت انس ؓ نے فرمایا: یہ سنت ہے۔ یہ سنت ہے تین مرتبہ ایسا فرمایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2571]
حدیث حاشیہ:
حضرت عمر فاروق ؓ نے ازخود آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ کا بچا ہوا تبرک ابوبکر ؓ کا حق ہے انہیں ملنا چاہیے، نیز عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت انس ؓ کے گھر تشریف لا کر ازخود پانی پینے کی خواہش کا اظہار کیا۔
بہرحال ہر انسان کے لیے اس کی زندگی میں دوست احباب کے ساتھ بے تکلفی کے بہت سے مواقع آتے ہیں۔
شریعت اسلامیہ اس کے متعلق تنگ نظر نہیں ہے۔
ایسے مواقع پر دین اسلام نے ہمیں ہر ممکن سہولت دی ہے جو معیوب نہیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت انس ؓ سے پانی طلب کیا۔
چونکہ حضرت انس ؓ آپ کے مزاج شناس تھے، انہوں نے دودھ میں پانی ملا کر آپ کے حضور پیش کیا تو آپ نے نوش فرمایا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2571 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5612 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5612. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دودھ پیتے دیکھا۔ آپ ان کے گھر تشریف لائے تو میں نے (حضرت انس) نے بکری کا دودھ نکالا اور اس میں کنویں کا تازہ پانی ملا کر رسول اللہ ﷺ کو پیش کیا۔ آپ ﷺ نے پیالہ لیا اور اسے نوش فرمایا۔ آپ کی بائیں جانب حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھےاور دائیں جانب ایک اعرابی تھا۔ آپ نے اپنا باقی دودھ اعرابی کو دیا، پھر فرمایا: ’’حق اس شخص کا ہے جو دائیں جانب ہو پھر وہ حق دار ہے جو اسے دائیں جانب ہو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5612]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ کھانا کھلاتے اور شربت یا دودھ پلاتے وقت دائیں طرف سے شروع کرنا چاہیئے اگرچہ بائیں جانب بڑے بزرگ ہی کیوں نہ ہوں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5612 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5612 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5612. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دودھ پیتے دیکھا۔ آپ ان کے گھر تشریف لائے تو میں نے (حضرت انس) نے بکری کا دودھ نکالا اور اس میں کنویں کا تازہ پانی ملا کر رسول اللہ ﷺ کو پیش کیا۔ آپ ﷺ نے پیالہ لیا اور اسے نوش فرمایا۔ آپ کی بائیں جانب حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھےاور دائیں جانب ایک اعرابی تھا۔ آپ نے اپنا باقی دودھ اعرابی کو دیا، پھر فرمایا: ’’حق اس شخص کا ہے جو دائیں جانب ہو پھر وہ حق دار ہے جو اسے دائیں جانب ہو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5612]
حدیث حاشیہ:
(1)
دودھ جب نکالا جاتا ہے تو گرم ہوتا ہے۔
گرم علاقوں میں اس کی گرمی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے، اس لیے عرب لوگ اس کی گرمی کا توڑ ٹھنڈے پانی سے کیا کرتے تھے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو آپ نے پینے کے لیے پانی طلب فرمایا تو ہم نے اپنی بکری کا دودھ دوہا اور اس میں کنویں کا پانی ملا کر آپ کو پیش کیا۔
(صحیح البخاري، الھبة و فضلھا و التحریض علیھا، حدیث: 2571) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانا کھلاتے یا کوئی مشروب پلاتے وقت دائیں طرف سے شروع کرنا چاہیے، خواہ بائیں جانب بڑے بڑے بزرگ ہی تشریف فرما کیوں نہ ہوں۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5612 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5619 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5619. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پانی ملایا ہوا دودھ پیش کیا گیا جبکہ آپ کی دائیں جانب ایک دیہاتی اور بائیں جانب حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے۔ آپ ﷺ نے وہ دودھ پی کر باقی اعرابی کو دیا اور فرمایا: دائیں جانب والے زیادہ حق دار ہیں پھر اس کی دائیں جانب والے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5619]
حدیث حاشیہ:
(1)
اگر لوگ کسی کے آگے یا پیچھے بیٹھے ہوں یا بائیں جانب بیٹھے ہوں تو بڑے کو ترجیح ہو گی، یعنی پینے پلانے کا آغاز بڑے آدمی سے ہو گا۔
اگر دائیں بائیں بیٹھے ہوں تو دائیں جانب والوں کو ترجیح ہو گی، پھر بڑے چھوٹے کا خیال نہیں رکھا جائے گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں جانب بہت پسند تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسندیدہ کام دائیں جانب سے شروع کرتے تھے۔
بہرحال مساویانہ حیثیت کے وقت دائیں جانب کو مقدم کیا جائے گا۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5619 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2029 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے جبکہ میں دس سال کا تھا اور آپﷺ فوت ہوئے، جبکہ میں بیس سال کا تھا اور میری مائیں مجھے آپ کی خدمت پر ابھارتی تھیں۔ آپ ہمارے ہاں ہمارے گھر میں داخل ہوئے تو ہم نے آپﷺ کے لیے گھریلو بکری دوہی اور اس میں گھر کے کنویں سے پانی ملایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے کہا: ـــــــ جبکہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپﷺ کی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5290]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اگر مہمان کو دودھ میں پانی ملا کر پلایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن خریدار کو پانی ملا کر دینا دھوکا اور فریب ہے، اس لیے جائز نہیں ہے اور ادب و احترام کے اعتبار سے عزیز و اقارب سے تعلق رکھنے والی عورتوں کو بھی ماں کہا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2029 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3726 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جو شخص قوم کا ساقی ہو وہ کب پئے؟`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا، آپ کے دائیں ایک دیہاتی اور بائیں ابوبکر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا پھر دیہاتی کو (پیالہ) دے دیا اور فرمایا: دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے پھر وہ جو اس کے دائیں ہو ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3726]
فوائد ومسائل:
فائدہ: ان دونوں حدیثوں سے واضح ہوا کہ ساقی خود آخر میں پیے۔
اور جسے مجلس میں دودھ وغیرہ پیش کیا جائے۔
وہ اوروں کی طرف بڑھائے۔
تو دایئں والے کو دے اور پھر اسی طرح آگے پیش کیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3726 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 471 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´دوسروں کو پلانے والا پہلے خود پی سکتا ہے`
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بلبن قد شيب بماء وعن يمينه اعرابي وعن يساره ابو بكر الصديق، فشرب ثم اعطى الاعرابي وقال: الايمن فالايمن.»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں (کنویں کا) پانی ملایا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف ایک اعرابی (دیہاتی) اور بائیں طرف سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دودھ) پیا پھر (باقی دودھ) اعرابی کو دے دیا اور فرمایا: دایاں (مقدم ہے) پھر (جو اس کے بعد) دایاں ہو۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 471]
تخریج الحدیث:
[الموطأ رواية يحييٰ بن يحييٰ 926/2 ح 787، ك 49 ح 17، التمهيد 151/6، الاستذكار: 1720، أخرجه البخاري 5619، ومسلم 2029، من حديث مالك به]
تفقہ:
➊ اپنے پینے کے لئے دودھ میں پانی ڈالنا جائز ہے لیکن اسے خالص دودھ کے نام پر بیچنا جائز نہیں ہے۔
➋ دوسروں کو پلانے والا پہلے خود پی سکتا ہے۔
➌ کھانے پینے کی چیزیں اگر دوسروں کو تحفتاً دی جائیں تو دائیں طرف سے ابتدأ کرنا چاہئے۔
➍ تحفہ قبول کرنا مسنون ہے بشرطیکہ کوئی شرعی عذر مانع نہ ہو۔
➎ دودھ پینا مسنون اور صحت و توانائی کے لئے بہترین غذا ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 3 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1216 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1216- سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے میں اس و قت دس سال کا لڑکا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس وقت میں 20 سال کا لڑکا تھا میری امی اور خالائیں مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں پھر ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں گھر تشریف لائے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی پالتو بکری کادودھ دوہ لیا اور ا س میں گھر میں موجود کنویں کا پانی ملادیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے اور آپ صلی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1216]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ دائیں طرف والے کو بائیں طرف والے پر ترجیح دینی چاہیے، جب انسان بیٹھے تو ہر جگہ دائیں طرف بیٹھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1214 سے ماخوذ ہے۔