حدیث نمبر: 3424
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأشربة / حدیث: 3424
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الأشربة 14 ( 2024 ) ، سنن الترمذی/الأشربة 11 ( 1879 ) ، ( تحفة الأشراف : 1180 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/131 ، 182 ، 277 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2024 | سنن ترمذي: 1879 | سنن ابي داود: 3717

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کھڑے ہو کر پینے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3424]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
بعض علماء نے ممانعت کو کراہت پرمحمول کیا ہے۔
یعنی بیٹھ کرپینا بہتر ہے۔
بعض نے کھڑے ہوکر پینا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص قرار دیا ہے یعنی نبی کریمﷺ کےلئے جائز تھا۔
ہمیں منع کی حدیث پرعمل کرنا چاہیے احتیاط اس میں ہے کہ کھڑے ہوکر پینے سے اجتناب کیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3424 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3717 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کھڑے ہو کر پانی پینا کیسا ہے؟`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کھڑے ہو کر کچھ پیئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3717]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ رسول للہ ﷺ کی تلقین ہے۔
پانی بھی حتی الامکان بیٹھ کر پیناچاہیے۔
یہ نہی تنزہیی ہے۔
اور بلاوجہ کھڑے ہوکر پینا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔
اس موضوع میں کئی احادیث آئی ہیں۔
ان تمام کو پیش نظر رکھا جائے۔
تو پتہ چلتا ہے کہ اسلام آرام سے بیٹھ کر پینے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
اور رسول اللہﷺ کا معمول بھی یہی تھا۔
البتہ اگر ضرورت ہو تو کھڑے ہوکر پینا بھی جائز ہے۔
جیسے اگلی روایت سے واضح ہوتا ہے۔
لیکن اسے معمول نہیں بنایا جا سکتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3717 سے ماخوذ ہے۔