سنن ابن ماجه
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الشُّرْبِ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ باب: مشک کے منہ سے پانی پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3420
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ممانعت کی وجہ ظاہر ہے کہ پانی اس صورت میں نظر نہیں آتا، اور اندیشہ ہے کہ پانی میں کوڑا یا کیڑا ہو، اور وہ پی جائے، دوسرے یہ کہ مشک میں بدبو ہو جانے کا خیال ہے، تیسرے یہ کہ پانی گرنے کا اندیشہ ہے، اور اکثر علماء کے نزدیک یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی خلاف اولیٰ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5627 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5627. حضرت ایوب سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم سے حضرت عکرمہ نے کہا: کیا میں تمہیں چند چھوٹی چھوٹی باتیں نہ بتاؤں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کی تھیں؟ رسول اللہ ﷺ نے مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع کیا تھا نیز اس سے بھی منع کیا کہ کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی لگانے سے روکے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5627]
حدیث حاشیہ: ہمارے زمانے میں مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ایسی ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی لڑ جھگڑ کر عدالت تک نوبت لے جاتے اور دنیا و دین برباد کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5627 سے ماخوذ ہے۔