حدیث نمبر: 3419
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ " , وَإِنَّ رَجُلًا بَعْدَ مَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , قَامَ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى سِقَاءٍ فَاخْتَنَثَهُ , فَخَرَجَتْ عَلَيْهِ مِنْهُ حَيَّةٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ باہر کر کے پانی پینے سے منع فرمایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت کے بعد ایک شخص نے رات کو اٹھ کر مشک کے منہ سے پانی پینا چاہا ، تو اس میں سے ایک سانپ نکلا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأشربة / حدیث: 3419
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, زمعة بن صالح ضعيف, و روي الحاكم (4/ 140 ح 7213) بسند صحيح عن أبي ھريرة رضي اللّٰه عنه: ’’ أن رسول اللّٰه ﷺ نھي أن يشرب من في السقاء ‘‘ قال أيوب (السختياني،الراوي عن عكرمة عن أبي ھريرة): ’’ فأنبئت أن رجلاً شرب من في السقاء فخرجت حية ‘‘ و صححه علي شرط البخاري ووافقه الذهبي, و رواه البخاري (5628) مختصرًا دون قول أيوب رحمه اللّٰه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6099 ، ومصباح الزجاجة : 1184 ) ( ضعیف ) » ( سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں ، لیکن مرفوع حدیث صحیح ہے ، کما تقدم ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 1126 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5629 | سنن ابن ماجه: 3421

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5629 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5629. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مشکیزے کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5629]
حدیث حاشیہ: مشک کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینا خطرناک کام ہے ممکن ہے کہ مشک سے اتنا پانی بلا قصد پیٹ میں چلا جائے کہ جان کے لالے پڑ جائیں لہٰذا چرا کار کند عاقل کہ بعد آید پشیمانی۔
صراحی کا بھی یہی حکم ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5629 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5629 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5629. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مشکیزے کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5629]
حدیث حاشیہ:
(1)
مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینا بہت خطرناک ہے۔
ممکن ہے منہ کھولنے سے اس قدر پانی پیٹ میں زیادہ چلا جائے کہ جان کے لالے پڑ جائیں۔
صراحی وغیرہ کا بھی یہی حکم ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبشہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے۔
ان کے ہاں ایک مشک لٹک رہی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے اس سے منہ لگا کر پانی پیا۔
انہوں نے دہن مبارک کی برکت کے خیال سے مشک کا منہ کاٹ کر رکھ لیا۔
(سنن ابن ماجة، الأشربة، حدیث: 3423) (2)
اس حدیث سے مشکیزے کے منہ سے پینے کا جواز معلوم ہوتا ہے جبکہ سابقہ باب کی حدیثوں سے اس کی ممانعت ثابت ہوتی ہے؟ ان میں تطبیق کی یہ صورت ہے کہ مجبوری کے وقت مشک کے منہ سے پانی پینا جائز ہے، مثلاً: مشکیزہ لٹکا ہوا ہو، اسے اتارا نہ جا سکتا ہو یا برتن میسر نہ ہو اور ہتھیلی سے پینا بھی ناممکن ہو تو اس صورت میں مشکیزے سے براہ راست پیا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی عذر نہ ہو تو ممانعت کی حدیث پر عمل کیا جائے۔
(فتح الباري: 114/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5629 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3421 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مشک کے منہ سے پانی پینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مشک کے منہ سے پانی پیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3421]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: حدیث: 3423 میں رسول اللہﷺ کے بذات خود مشکیزے کے منہ سے پانی پینے کا ذکر ہے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں طرح کی احادیث کو اس انداز سے جمع کرنے کی ترجیح دی ہے۔
کہ جواز اس وقت ہے۔
جب کوئی عذر ہو۔
مثلا مشک لٹکی ہوئی ہو۔
اور کوئی برتن موجود نہ ہو (جس میں سے مشک میں سے ڈال کر پانی پیا جاسکے)
اور ہاتھ سے پینا مشکل ہو اس وقت (مشک کے منہ سے براہ راست پانی پی لینا)
مکروہ نہیں اگرعذر نہ ہو تو منع کی احادیث پر عمل کیا جائے۔ (فتح الباري: 10/ 114)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3421 سے ماخوذ ہے۔