حدیث نمبر: 3417
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَرِبَ فَتَنَفَّسَ فِيهِ مَرَّتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا ، تو آپ نے دوبار سانس لی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأشربة / حدیث: 3417
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1886), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الأشربة 14 ( 1886 ) ، ( تحفة الأشراف : 6347 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/284 ، 285 ) ( ضعیف ) » ( رشدین بن کریب ضعیف راوی ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1886 | سنن ابي داود: 3728 | سنن ابن ماجه: 3288 | سنن ابن ماجه: 3428

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1886 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´دو سانس میں پینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پیتے تھے تو دو سانس میں پیتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1886]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں رشدین بن کریب ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1886 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3728 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´پانی کے برتن میں پھونک مارنا اور سانس لینا منع ہے۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3728]
فوائد ومسائل:

افضل یہ ہے کہ انسان تین سانس میں پیے اور برتن کومنہ سے الگ کرکے سانس لے۔


کھانے پینے کی چیز میں پھونک مارنا بھی جائز نہیں۔
اگر کھانا یا مشروب زیادہ گرم ہو تو انتظار کرلے اور ٹھنڈا کرکے کھائے پئے۔
اس طرح اگر کوئی تنکا وغیرہ اس میں گرا پڑا ہوتو ہاتھ سے نکال لے پھونک نہ مارے۔


بعض علماء تبرک کےلئے قرآن کریم یا کوئی دعا پڑھ کے دم کرنے کو بھی ناجائز کہتے ہیں۔
جب کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ اور مسنون ادعیہ پڑھنے سے اس میں کچھ تاثیر پیدا ہوجاتی ہے۔
اس لئے وہ دم کرکے پھونک مارنے کو ممنوع نفخ میں شامل نہیں کرتے۔
بلکہ اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔
(تفصیل کےلئے حدیث نمبر 3722۔
کے فوائد ومسائل دیکھیں)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3728 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3428 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´پانی کے برتن میں سانس لینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3428]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
پانی دودھ یا کوئی اور مشروب پیتے ہوئے سانس لینے کی ضرورت ہو تو برتن منہ سے ہٹا کر سانس لینا چاہیے پھر دوبارہ حسب ضرورت پی لیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3428 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3288 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کھانے میں پھونک مارنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے پینے کی چیزوں میں نہ پھونک مارتے تھے، اور نہ ہی برتن کے اندر سانس لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3288]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ حدیث صحیح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے برتن میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔ (دیکھیے ابن ماجہ حدیث: 3429)

(2)
حضرت ابو سعید ؓ سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پینے کی چیز میں پھونک مارنے سےمنع فرمایا۔
ایک شخص نے کہا: اگر برتن میں کوئی ناپسندیدہ چیز (تنکا وغیرہ)
نظر آ جائے تو؟ آپ نے فرمایا: اسے انڈیل دو۔ (تھوڑا سا پانی انڈیل دو تاکہ وہ بھی نکل جائے)
اس نے کہا: میں ایک سانس سے (پیتا ہوں تو)
سیر نہیں ہوتا۔
فرمایا: پیالے کومنہ سے ہٹا لیا کرو۔ (جامع الترمذي، الأشرية، باب ماجاء في كراهية النفخ في الشراب، حديث: 1887)
 اس سے معلوم ہوا کہ برتن کو منہ سے ہٹا کر سانس لینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3288 سے ماخوذ ہے۔