حدیث نمبر: 3411
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ سُهَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ , وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ , وَإِكْفَاءِ الْإِنَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں برتن ڈھانکنے ، مشک کا منہ بند کر دینے ، اور برتن کو الٹ کر رکھنے کا حکم دیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأشربة / حدیث: 3411
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12639 ، ومصباح الزجاجة : 1181 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/367 ) ، سنن الدارمی/الأشربة 26 ( 2178 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´برتن ڈھانک کر رکھنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں برتن ڈھانکنے، مشک کا منہ بند کر دینے، اور برتن کو الٹ کر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3411]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: خالی چھوٹا برتن الٹا کر کے رکھنے سے مذکورہ بالا مقصد حاصل ہوجاتا ہے۔
جب برتن میں کوئی چیز موجود ہو یا برتن بڑا ہو تو اسے ڈھانپ دینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3411 سے ماخوذ ہے۔