حدیث نمبر: 3406
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ , عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ نَبِيذِ الْأَوْعِيَةِ , أَلَا وَإِنَّ وِعَاءً لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا , كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں ( مخصوص ) برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا ، سنو ! برتن کی وجہ سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی ، البتہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأشربة / حدیث: 3406
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9563 ، ومصباح الزجاجة : 1179 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مذکورہ بالا برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں نے تمہیں (مخصوص) برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا، سنو! برتن کی وجہ سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی، البتہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3406]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
حکم کا دارومدارعلت پر ہے۔
اس مسئلے میں علت نشہ آور ہونا ہے۔
لہٰذا جو چیز بھی نشہ آور ہو وہ حرام ہے اور جس سے نشہ نہ آئے وہ حلال ہے (بشرط یہ کہ)
اس میں حرام ہونے کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہو)
مشروب کا نام بدلنے سے یا اس کی تیاری کا طریقہ مختلف ہونے سے حکم تبدیل نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3406 سے ماخوذ ہے۔