سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : الاِرْتِيَادِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ باب: پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، فَقَالَ لِي : " ائْتِ تِلْكَ الْأَشَاءَتَيْنِ " ، قَالَ وَكِيعٌ : يَعْنِي النَّخْلَ الصِّغَارَ ، قَالَ أبُو بَكْرٍ : فَقُلْ لَهُمَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا ، فَاجْتَمَعَتَا فَاسْتَتَرَ بِهِمَا فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ قَالَ لِي : " ائْتِهِمَا ، فَقُلْ لَهُمَا : لِتَرْجِعْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا " ، فَقُلْتُ لَهُمَا فَرَجَعَتَا .
´مرہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا ، آپ نے قضائے حاجت کا ارادہ کیا اور مجھ سے کہا : ” تم کھجور کے ان دونوں چھوٹے درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں باہم مل جانے کا حکم دے رہے ہیں “ ، چنانچہ حکم پاتے ہی وہ دونوں درخت باہم مل گئے ۲؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آڑ میں قضائے حاجت کی اور پھر مجھ سے فرمایا : ” ان دونوں کے پاس جاؤ اور کہو کہ اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ جائیں “ ۔ مرہ کہتے ہیں : میں نے جا کر ان سے یہ کہا تو وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ گئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مرہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے قضائے حاجت کا ارادہ کیا اور مجھ سے کہا: ” تم کھجور کے ان دونوں چھوٹے درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں باہم مل جانے کا حکم دے رہے ہیں “، چنانچہ حکم پاتے ہی وہ دونوں درخت باہم مل گئے ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آڑ میں قضائے حاجت کی اور پھر مجھ سے فرمایا: ” ان دونوں کے پاس جاؤ اور کہو کہ اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ جائیں۔“ مرہ کہتے ہیں: میں نے جا کر ان سے یہ کہا تو وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 339]
یہ رسول اللہ ﷺ کا معجزہ ہے کہ آپ کے لیے اللہ تعالی نے درختوں کو ان کی جگہ سے منتقل کردیا اور پھر انھیں دوبارہ ان کی جگہ واپس پہنچادیا، مزید یہ کہ درختوں کو اللہ کے رسول ﷺ نے براہ راست حکم نہیں دیا بلکہ صحابی نے ان تک پیغام پہنچایا اور انھوں نے تعمیل کی۔
یہ صحابی کی کرامت ہے۔
(2)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے موقع پر پردے کا کس قدر اہتمام فرماتے تھے کہ کھجور کا ایک پودا پردے کے لیے کافی نہیں سمجھا حتی کہ اللہ کے حکم سے دوسرا پودا اس کے ساتھ مل کر زیادہ پردہ ہوگیا۔