حدیث نمبر: 3376
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ , حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عادی شرابی جنت میں داخل نہیں ہو گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأشربة / حدیث: 3376
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10946 ، ومصباح الزجاجة : 1172 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/189 ، 6/441 ) ( صحیح ) » ( ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 675 و 678 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عادی شرابی کا بیان۔`
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عادی شرابی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3376]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شراب نوشی کبیرہ گناہ ہے۔

(2)
آخرت میں اس کی سزا جنت سے محرومی ہے جبکہ دنیا میں اس سے کئی طرح کی مہلک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔

(3)
بعض علماء بیان کرتے ہیں کہ عادی شرابی کا انجام اچھا نہیں ہوتا اور خطرہ ہےکہ اس گناہ کی وجہ سے ایمان سلب ہو جائے جس کی وجہ سے وہ دائمی جہنمی بن جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3376 سے ماخوذ ہے۔