حدیث نمبر: 3374
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ , أَنَّ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا , لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو دنیا میں شراب پئے گا ، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأشربة / حدیث: 3374
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12300 ، ومصباح الزجاجة : 1170 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جس نے دنیا میں شراب پی اسے آخرت میں جنت کی (پاک) شراب نہ ملے گی۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دنیا میں شراب پئے گا، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3374]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
انسان گناہوں کی وجہ سے جنت کی بعض نعمتوں سے محروم ہو سکتا ہے اگرچہ اس کے دوسرے گناہ معاف کرکے اسے جنت میں داخل کر دیا جائے۔

(2)
سچی توبہ سےکبیرہ گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3374 سے ماخوذ ہے۔