حدیث نمبر: 3369
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ , حَدَّثَنَا نُقَيْبُ بْنُ حَاجِبٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الزُّبَيْرِيِّ , عَنْ طَلْحَةَ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِيَدِهِ سَفَرْجَلَةٌ , فَقَالَ : " دُونَكَهَا يَا طَلْحَةُ فَإِنَّهَا تُجِمُّ الْفُؤَادَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور آپ کے ہاتھ میں بہی ( سفرجل ) ۱؎ تھا ، آپ نے مجھ سے فرمایا : ” طلحہ ! اسے لے لو ، یہ دل کے لیے راحت بخش ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: بہی اور سیب دونوں دل کے لئے مقوی اور دل کی دھڑکن دور کرنے میں مفید ہیں، اگرچہ حدیث ضعیف ہے، مگر یہ دونوں گرم مزاج والوں کے لئے مفید ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3369
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, نقيب بن حاجب و أبو سعيد و عبدالملك الزبيري:مجهولون (تقريب: 7185،8134،4230), وللحديث شواهد ضعيفة في العلل المتناهية (165/2،166), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 498
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5004 ، ومصباح الزجاجة : 1167 ) ( ضعیف الإسناد ) » ( سند میں نقیب بن حاجب ، ابو سعید اور عبدالملک سب مجہول ہیں )