حدیث نمبر: 3368
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ , قَالَ : أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنَبٌ مِنْ الطَّائِفِ فَدَعَانِي , فَقَالَ : " خُذْ هَذَا الْعُنْقُودَ , فَأَبْلِغْهُ أُمَّكَ " , فَأَكَلْتُهُ قَبْلَ أَنْ أُبْلِغَهُ إِيَّاهَا , فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ لَيَالٍ , قَالَ لِي : " مَا فَعَلَ الْعُنْقُودُ ؟ هَلْ أَبْلَغْتَهُ أُمَّكَ ؟ " , قُلْتُ : لَا , فَسَمَّانِي غُدَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس طائف سے انگور ہدیہ میں آئے ، آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا : ” یہ خوشہ لو اور اپنی ماں کو پہنچا دو “ ، میں نے وہ خوشہ ماں تک پہنچانے سے پہلے ہی کھا لیا ، جب چند روز ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا : ” خوشے کا کیا ہوا ؟ کیا تم نے اسے اپنی ماں کو دیا “ ؟ میں نے عرض کیا : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام ( محبت و مزاح سے ) ” دغا باز “ رکھ دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3368
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبد الرحمٰن بن عرق:مجهول (التحرير: 3951) لم يوثقه غير ابن حبان, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 498
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11633 ، ومصباح الزجاجة : 1166 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں عبدالرحمن بن عرق مقبول راوی ہیں ، جن کا کوئی متابع نہیں اس لئے وہ لین الحدیث ہیں ، اور اس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے )