حدیث نمبر: 3366
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يُحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ نُعَيْمٍ , عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ دُخَيْنٍ الْحَجْرِيِّ , أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ , يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " لَا تَأْكُلُوا الْبَصَلَ " , ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً : " النِّيءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´دخین حجری سے روایت ہے کہا انہوں نے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : ” پیاز مت کھاؤ ، ، پھر ایک لفظ آہستہ سے کہا : ” کچی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3366
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله ثم قال , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عثمان بن نعيم والمغيرة بن نهيك: مجهولان (تقريب: 4523،6853) وابن لهيعة عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 498
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9925 ، ومصباح الزجاجة : 1165 ) ( صحیح ) » ( سند میں عثمان ا ور مغیرہ دونوں مجہول ہیں ، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے ، آخری جملہ «ثم قال كلمة خفية : النيئ» ضعیف ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 2389 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´لہسن، پیاز اور گندنا کھانے کا بیان۔`
دخین حجری سے روایت ہے کہا انہوں نے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: پیاز مت کھاؤ،، پھر ایک لفظ آہستہ سے کہا: کچی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3366]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے تاہم گزشتہ صحیح احادیث سے واضح ہے کہ مسجد میں جاتے وقت کچا پیاز کھانا ناجائز ہے پکا ہوا کھانا جائز ہے۔
غالباً اسی وجہ سے شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے (ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً النِّيء)
پھر آہستہ سے یہ لفظ فرمایا: کچا نہ کھاؤ۔
کے علاوہ باقی روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے: (الصحیحة، رقم: 2389)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3366 سے ماخوذ ہے۔