سنن ابن ماجه
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الْجَمْعِ بَيْنَ السَّمْنِ وَاللَّحْمِ باب: گھی اور گوشت ملا کر کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي الْيَعْفُورِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ وَهُوَ عَلَى مَائِدَتِهِ , فَأَوْسَعَ لَهُ عَنْ صَدْرِ الْمَجْلِسِ , فَقَالَ : بِسْمِ اللَّهِ , ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ فَلَقِمَ لُقْمَةً , ثُمَّ ثَنَّى بِأُخْرَى , ثُمّ قَالَ : إِنِّي لَأَجِدُ طَعْمَ دَسَمٍ مَا هُوَ بِدَسَمِ اللَّحْمِ , فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , إِنِّي خَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ أَطْلُبُ السَّمِينَ لِأَشْتَرِيَهُ فَوَجَدْتُهُ غَالِيًا , فَاشْتَرَيْتُ بِدِرْهَمٍ مِنَ الْمَهْزُولِ وَحَمَلْتُ عَلَيْهِ بِدِرْهَمٍ سَمْنًا , فَأَرَدْتُ أَنْ يَتَرَدَّدَ عِيَالِي عَظْمًا عَظْمًا , فَقَالَ عُمَرُ : " مَا اجْتَمَعَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ , إِلَّا أَكَلَ أَحَدَهُمَا , وَتَصَدَّقَ بِالْآخَرِ " , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : خُذْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , فَلَنْ يَجْتَمِعَا عِنْدِي , إِلَّا فَعَلْتُ ذَلِكَ , قَالَ : " مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ " .
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ان کے پاس عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور وہ اس وقت دستر خوان پر تھے ، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے مجلس کے درمیان میں جگہ بنائی ، عمر رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ کہا ، پھر کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا ، اور ایک لقمہ لیا ، پھر دوسرا لقمہ لیا ، پھر کہا : مجھے اس میں چکنائی کا ذائقہ مل رہا ہے ، اور یہ چکنائی گوشت کی چربی نہیں ہے ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : اے امیر المؤمنین ! میں فربہ گوشت کی تلاش میں بازار نکلا تاکہ اسے خریدوں ، لیکن میں نے اسے مہنگا پایا تو ایک درہم میں دبلا گوشت خرید لیا ، اور ایک درہم کا گھی خرید کر اس میں ملا دیا ، اس سے میرا مقصد یہ تھا کہ ایک ایک ہڈی میرے تمام گھر والوں کے حصے میں آ جائے ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : جب کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ دونوں چیزیں بیک وقت اکٹھا ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کھا لی ، اور دوسری صدقہ کر دی ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : امیر المؤمنین ! اب تو اسے کھا لیجئیے پھر جب کبھی میرے پاس یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہوں گی میں بھی ایسا ہی کروں گا ، عمر رضی اللہ عنہ بولے : میں اسے کھانے والا نہیں ۔