سنن ابن ماجه
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : النَّهْيِ عَنِ إِلْقَاءِ الطَّعَامِ باب: کھانا پھینکنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3353
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ , حَدَّثَنَا وَسَّاجُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ وَسَّاجٍ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ , حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ , فَرَأَى كِسْرَةً مُلْقَاةً فَأَخَذَهَا فَمَسَحَهَا , ثُمَّ أَكَلَهَا , وَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ أَكْرِمِي كَرِيمكِ , فَإِنَّهَا مَا نَفَرَتْ عَنْ قَوْمٍ قَطُّ فَعَادَتْ إِلَيْهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو روٹی کا ایک ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا ، آپ نے اسے اٹھایا ، صاف کیا پھر اسے کھا لیا ، اور فرمایا : ” عائشہ ! احترام کے قابل چیز ( یعنی اللہ کے رزق کی ) عزت کرو ، اس لیے کہ جب کبھی کسی قوم سے اللہ کا رزق پھر گیا ، تو ان کی طرف واپس نہیں آیا “ ۔