سنن ابن ماجه
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الاِقْتِصَادِ فِي الأَكْلِ وَكَرَاهِيَةِ الشِّبَعِ باب: کھانے میں میانہ روی کا بیان اور بھر پیٹ کھانے کی کراہت۔
حدیث نمبر: 3351
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ , عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ , عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ : سَمِعْتُ سَلْمَانَ وَأُكْرِهَ عَلَى طَعَامٍ يَأْكُلُهُ , فَقَالَ : حَسْبِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا , أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطیہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ` سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو کھانا کھانے پر مجبور کیا گیا تو میں نے ان کو کہتے سنا : میرے لیے کافی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دنیا میں سب سے زیادہ شکم سیر ہو کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا ہو گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کھانے میں میانہ روی کا بیان اور بھر پیٹ کھانے کی کراہت۔`
عطیہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو کھانا کھانے پر مجبور کیا گیا تو میں نے ان کو کہتے سنا: میرے لیے کافی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” دنیا میں سب سے زیادہ شکم سیر ہو کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3351]
عطیہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو کھانا کھانے پر مجبور کیا گیا تو میں نے ان کو کہتے سنا: میرے لیے کافی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” دنیا میں سب سے زیادہ شکم سیر ہو کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3351]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کم کھانے والا بھوک برداشت کر سکتا ہے قیامت کے دن بھی اسے بھوک برداشت کرنا آسان ہو گا۔
(2)
زیادہ کھانے کے شائق حلال و حرام میں امتیاز کرنے کی کوشش نہیں کرتے اس لیے صریح حرام سے بچ بھی جائیں تو مشکوک تو کھا ہی لیتے ہیں۔
اس کی وجہ سے وہ قیامت کے دن سزا کے مستحق قرارپائیں گے۔
(3)
ڈکار لینا پیٹ بھر کر کھانے کی علامت ہے جو مستحسن نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
کم کھانے والا بھوک برداشت کر سکتا ہے قیامت کے دن بھی اسے بھوک برداشت کرنا آسان ہو گا۔
(2)
زیادہ کھانے کے شائق حلال و حرام میں امتیاز کرنے کی کوشش نہیں کرتے اس لیے صریح حرام سے بچ بھی جائیں تو مشکوک تو کھا ہی لیتے ہیں۔
اس کی وجہ سے وہ قیامت کے دن سزا کے مستحق قرارپائیں گے۔
(3)
ڈکار لینا پیٹ بھر کر کھانے کی علامت ہے جو مستحسن نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3351 سے ماخوذ ہے۔