سنن ابن ماجه
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الْخُبْزِ الْمُلَبَّقِ بِالسَّمْنِ باب: گھی میں چپڑی روٹی کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : صَنَعَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزَةً , وَضَعَتْ فِيهَا شَيْئًا مِنْ سَمْنٍ , ثُمَّ قَالَتْ : اذْهَبْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَادْعُهُ , قَالَ : فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ : أُمِّي تَدْعُوكَ , قَالَ : فَقَامَ وَقَالَ لِمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنَ النَّاسِ : " قُومُوا " ، قَالَ : فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا , فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " هَاتِي مَا صَنَعْتِ " , فَقَالَتْ : إِنَّمَا صَنَعْتُهُ لَكَ وَحْدَكَ , فَقَالَ : " هَاتِيهِ " , فَقَالَ : " يَا أَنَسُ أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً عَشَرَةً " , قَالَ : فَمَا زِلْتُ أُدْخِلُ عَلَيْهِ عَشَرَةً عَشَرَةً , فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَكَانُوا ثَمَانِينَ .
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ( میری والدہ ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روٹی تیار کی ، اور اس میں تھوڑا سا گھی بھی لگا دیا ، پھر کہا : جاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لاؤ ، میں نے آپ کے پاس آ کر عرض کیا کہ میری ماں آپ کو دعوت دے رہی ہیں تو آپ کھڑے ہوئے اور اپنے پاس موجود سارے لوگوں سے کہا کہ ” اٹھو ، چلو “ ، یہ دیکھ کر میں ان سب سے آگے نکل کر ماں کے پاس پہنچا ، اور انہیں اس کی خبر دی ( کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت سارے لوگوں کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں ) اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ پہنچے ، اور فرمایا : ” جو تم نے پکایا ہے ، لاؤ “ ، میری ماں نے عرض کیا کہ میں نے تو صرف آپ کے لیے بنایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لاؤ تو سہی “ ، پھر فرمایا : ” اے انس ! میرے پاس لوگوں میں سے دس دس آدمی اندر لے کر آؤ “ ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دس دس آدمی آپ کے پاس داخل کرتا رہا ، سب نے سیر ہو کر کھایا ، اور وہ سب اسّی کی تعداد میں تھے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (میری والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روٹی تیار کی، اور اس میں تھوڑا سا گھی بھی لگا دیا، پھر کہا: جاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لاؤ، میں نے آپ کے پاس آ کر عرض کیا کہ میری ماں آپ کو دعوت دے رہی ہیں تو آپ کھڑے ہوئے اور اپنے پاس موجود سارے لوگوں سے کہا کہ ” اٹھو، چلو “، یہ دیکھ کر میں ان سب سے آگے نکل کر ماں کے پاس پہنچا، اور انہیں اس کی خبر دی (کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت سارے لوگوں کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں) اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ پہنچے، اور فرمایا:۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3342]
فوائد و مسائل:
(1)
کھانے میں برکت ہو جانا نبی اکرم ﷺ کامعجزہ ہے۔
(2)
مہمان کے لیے اہتمام کے ساتھ عمدہ کھانا تیار کرنا ممنوع تکلف میں شامل نہیں۔
(3)
نبی ﷺ نے پراٹھا خود بھی تناول فرمایا اور ساتھیوں کو بھی کھلایا۔