سنن ابن ماجه
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الْحُوَّارَى باب: میدہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ : سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ هَلْ رَأَيْتَ النَّقِيَّ ؟ قَالَ : " مَا رَأَيْتُ النَّقِيَّ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " , فَقُلْتُ : فَهَلْ كَانَ لَهُمْ مَنَاخِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " مَا رَأَيْتُ مُنْخُلًا , حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " , قُلْتُ : فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ , كُنَّا نَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مِنْهُ مَا طَارَ , وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ " .
´ابوحازم کہتے ہیں کہ` میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے میدہ دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک میدہ نہیں دیکھا تھا ، تو میں نے پوچھا : کیا لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھلنیاں نہ تھیں ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے کوئی چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ، میں نے عرض کیا : آخر کیسے آپ لوگ بلا چھنا جو کھاتے تھے ؟ فرمایا : ہاں ! ہم اسے پھونک لیتے تو اس میں اڑنے کے لائق چیز اڑ جاتی اور جو باقی رہ جاتا اسے ہم گوندھ لیتے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوحازم کہتے ہیں کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے میدہ دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک میدہ نہیں دیکھا تھا، تو میں نے پوچھا: کیا لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھلنیاں نہ تھیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے کوئی چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، میں نے عرض کیا: آخر کیسے آپ لوگ بلا چھنا جو کھاتے تھے؟ فرمایا: ہاں! ہم اسے پھونک لیتے تو اس میں اڑنے کے لائق چیز اڑ جاتی اور جو باقی رہ جاتا اسے ہم گوندھ لیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3335]
فوائد و مسائل:
(1)
«حوارٰی» کی وضاحت النھایۃ میں اس طرح کی گئی ہے: اس آٹے کی روٹی جسے بار بار چھانا گیا ہو۔ (النھایة: مادہ حور)
لیکن حدیث میں اس سے مراد بار بار چھانا ہوا باریک آٹا یا میدا ہے۔
اس آٹے کی روٹی کا نام نقی ہے۔
(2)
جو کے آٹے میں گندم کے آٹے کی نسبت زیادہ بھوسی ہوتی ہے اس لیے اسے چھاننے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
اور نبی ﷺ کے زمانے میں گندم کمیاب تھی اس لیے تابعی کو تعجب ہوا کہ جو کا آٹا چھانے بغیر کس طرح استعمال کیا جاتا تھا۔
(3)
صحابی نے وضاحت کی کہ معمولی سا پھٹک کر تھوڑی بہت بھوسی نکل جاتی تھی۔
اسی کو کافی سمجھا جاتا تھا۔
زیادہ تکلف نہیں کیا جاتا تھا۔