حدیث نمبر: 3331
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ , سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جبلہ بن سحیم سے روایت ہے کہ` میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی دو دو کھجوریں ملا کر کھائے ، یہاں تک کہ وہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3331
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المظالم 14 ( 2455 ) ، الشرکة 4 ( 2489 ) ، صحیح مسلم/الأشربة 25 ( 2045 ) ، سنن ابی داود/الأطعمة 44 ( 3834 ) ، سنن الترمذی/الأطعمة 16 ( 1814 ) ، ( تحفة الأشراف : 6667 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/7 ، 44 ، 36 ، 60 ، 74 ، 81 ، 103 ، 131 ) ، سنن الدارمی/الأطعمة 25 ( 2103 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2489 | صحيح مسلم: 2045 | سنن ترمذي: 1814

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2045 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر دو کھجوریں ملا کر کھائے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5335]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کے موقوف (اپنا قول)
اور مرفوع (آپ کی طرف منسوب)
دونوں طرح ثابت ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے، دانے دار اشیاء جن کو ایک ایک کر کے اور ملا کر کھایا جاتا ہے، ان کو ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ملا کر کھانا جائز نہیں ہے، یا کم از کم ادب اور وقار کے منافی ہے، لیکن آج کل ان اخلاقی ہدایات کو درخور اعتناء نہیں سمجھا جاتا اور کھانوں میں اسلامی شریعت کی ہدایات کی بجائے مغربی تہذیب کی پابندی کی جاتی ہے اور اس پر بڑا خوش ہوا جاتا ہے کہ ہم بڑے مہذب اور شائستہ لوگ ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2045 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1814 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´دو دو کھجور ایک لقمے میں کھانے کی کراہت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجور ایک ساتھ کھانے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اپنے ساتھ کھانے والے کی اجازت حاصل کر لے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1814]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایسا وہ کرے گا جو کھانے کے سلسلہ میں بے انتہا حریص اور لالچی ہو، اور جسے ساتھ میں دوسرے کھانے والوں کا بالکل لحاظ نہ ہو، اس لیے اس طرح کے حرص اور لالچ سے دور رہنا چاہیئے، خاص طور پر جب کھانے کی مقدار کم ہو، یہ ممانعت اجتماعی طور پر کھانے کے سلسلہ میں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1814 سے ماخوذ ہے۔