حدیث نمبر: 3329
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ إِذَا أُتِيَ بِأَوَّلِ الثَّمَرَةِ , قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا , وَفِي ثِمَارِنَا , وَفِي مُدِّنَا , وَفِي صَاعِنَا بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ " , ثُمَّ يُنَاوِلُهُ أَصْغَرَ مَنْ بِحَضْرَتِهِ مِنَ الْوِلْدَانِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب موسم کا پہلا پھل آتا تو فرماتے : «اللهم بارك لنا في مدينتنا وفي ثمارنا وفي مدنا وفي صاعنا بركة مع بركة» یعنی ” اے اللہ ! ہمارے شہر میں ، ہمارے پھلوں میں ، ہمارے مد میں ، اور ہمارے صاع میں ، ہمیں برکت عطا فرما ، پھر آپ اپنے سامنے موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو وہ پھل عنایت فرما دیتے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3329
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الحج 85 ( 1373 ) ، ( تحفة الأشراف : 12707 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الدعوات 54 ( 3454 ) ، موطا امام مالک/الجامع 1 ( 2 ) ، مسند احمد ( 1/116 ، 169 ، 183 ، 2/124 ، 126 ، 330 ، 3/35 ، 47 ) ، سنن الدارمی/الأطعمة 32 ( 2116 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1373 | سنن ترمذي: 3454 | معجم صغير للطبراني: 907

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´موسم کے پہلے پھل کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب موسم کا پہلا پھل آتا تو فرماتے: «اللهم بارك لنا في مدينتنا وفي ثمارنا وفي مدنا وفي صاعنا بركة مع بركة» یعنی اے اللہ! ہمارے شہر میں، ہمارے پھلوں میں، ہمارے مد میں، اور ہمارے صاع میں، ہمیں برکت عطا فرما، پھر آپ اپنے سامنے موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو وہ پھل عنایت فرما دیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3329]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
باغ کا پہلا پھل کسی بزرگ شخصیت کی خدمت میں پیش کرنا چاہیے۔
اس میں اس شخصیت کی بزرگی کا اعتراف بھی ہے اور اس سے محبت کااظہار بھی۔

(2)
بڑوں کو چھوٹوں کے حق میں ہر مناسب موقع پر دعائے خیر کرنی چاہیے۔

(3)
بچوں کو کھانے پینے کی چیز دینے سے بچوں کے دل میں بزرگوں کی محبت پیدا ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3329 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1373 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سب سے پہلا پھل لایا جاتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا فرماتے: ’’اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے مدینہ میں برکت دے اور ہمارے پھلوں میں اور ہمارے مد میں اور ہمارے صاع میں برکت در برکت فرما۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ پھل موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو عنایت فرماتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3335]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مدینہ میں برکت کا مطلب یہ ہےکہ وہ خوب آباد وشاداب رہے، اور اس کے مکینوں پر اللہ کا فضل وکرم ہو، پھلوں اور پیداوار میں برکت کا مطلب یہ ہےکہ پھل اور پیداوار زیادہ سے زیادہ ہوں یعنی فصل بھر پور ہو، قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے اس وقت کی تھی جب اپنی بیوی اور شیرخوار بچے کو مکہ کی بے آباد اور بے آب وگیاہ وادی میں چھوڑ رہے تھے: ’’اے اللہ! تو اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت والفت پیدا کر دے اور ان کو ان کی ضرورت کا رزق اور پھل پہنچا اور اس کو امن وسلامتی والا علاقہ بنادے، (سورہ بقرہ سورہ ابراہیم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور نظیر اس دعا کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے یہی دعا مزید اضافے کے ساتھ کی۔
اس دعا کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا بھر کا رزق اور پھل مکہ کی طرح مدینہ میں پہنچ رہا ہے اور جن ایمان والے بندوں کو مکہ سے محبت ہے ان سب کو مدینہ سے بھی محبت وپیار ہے۔
اور اس محبوبیت میں مدینہ کا حصہ مکہ سے بڑھ کر ہے نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا میں ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کا بندہ، اس کا خلیل اور اس کا نبی کہا ہےلیکن اپنے آپ کو صرف بندہ اور نبی کہا، خلیل ہونے کا تذکرہ نہیں کیا، یہ تواضع اور کسر نفس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق ہے۔
اورپھر آپ نیا اوردرخت کا پہلا پھل (نئے پھل)
اور کمسن بچے کی مناسبت سے یہ سبق دینے کے لیے اس کوعنایت فرماتے کہ ایسے موقعوں پر چھوٹے معصوم بچوں کو مقدم رکھنا چاہیے کیونکہ وہ تھوڑی چیز لے کر خوش ہو جاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1373 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3454 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جب موسم کا پہلا پھل دیکھے تو کیا کہے؟`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگ جب کھجور کا پہلا پھل دیکھتے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (توڑ کر) لاتے، جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیتے تو فرماتے «اللهم بارك لنا في ثمارنا وبارك لنا في مدينتنا وبارك لنا في صاعنا ومدنا اللهم إن إبراهيم عبدك وخليلك ونبيك وإني عبدك ونبيك وإنه دعاك لمكة وأنا أدعوك للمدينة بمثل ما دعاك به لمكة ومثله» اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے پھلوں میں برکت دے، اور ہمارے لیے ہمارے شہر میں برکت دے، ہمارے صاع میں برکت دے، ہمارے مد میں برکت دے، اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے ہیں، تیرے دوست ہیں ت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3454]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے پھلوں میں برکت دے، اور ہمارے لیے ہمارے شہر میں برکت دے، ہمارے صاع میں برکت دے، ہمارے مُد میں برکت دے، اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے ہیں، تیرے دوست ہیں تیرے نبی ہیں، اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں، انہوں نے دعا کی تھی مکہ کے لیے، میں تجھ سے دعا کرتا ہوں مدینہ کے لیے، اسی طرح کی دعا جس طرح کی دعا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے کی تھی، بلکہ اس سے دوگنی (برکت دے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3454 سے ماخوذ ہے۔