حدیث نمبر: 3328
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ , كَالْبَيْتِ لَا طَعَامَ فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمیٰ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ اس گھر کی طرح ہے جس میں کھانا ہی نہ ہو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کھجور کا بیان۔`
سلمیٰ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ اس گھر کی طرح ہے جس میں کھانا ہی نہ ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3328]
سلمیٰ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ اس گھر کی طرح ہے جس میں کھانا ہی نہ ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3328]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کھجور مکمل غذائی فوائد کی حامل ہے۔
اس کی موجودگی میں کوئی دوسری غذائی چیز موجود نہ ہو تب بھی گزارہ ہو سکتا ہے۔
(2)
کسی فصل کےموسم میں سال بھر کی ضرورت کے لیے غذائی چیز کو خرید کر رکھ لینا جائز ہے۔
ممنوع ذخیرہ اندوزی یہ ہے کہ عوام کو ایک چیز کی ضرورت ہو اور تاجر اسے بیچنے کی بجائے سنبھال کر رکھ لے تاکہ بھاؤ اور زیادہ ہو جائے۔
(3)
اس میں قناعت کا سبق ہے کہ جب کھجوریں موجود ہیں پھر طرح طرح کی اشیاء جمع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
کھجور مکمل غذائی فوائد کی حامل ہے۔
اس کی موجودگی میں کوئی دوسری غذائی چیز موجود نہ ہو تب بھی گزارہ ہو سکتا ہے۔
(2)
کسی فصل کےموسم میں سال بھر کی ضرورت کے لیے غذائی چیز کو خرید کر رکھ لینا جائز ہے۔
ممنوع ذخیرہ اندوزی یہ ہے کہ عوام کو ایک چیز کی ضرورت ہو اور تاجر اسے بیچنے کی بجائے سنبھال کر رکھ لے تاکہ بھاؤ اور زیادہ ہو جائے۔
(3)
اس میں قناعت کا سبق ہے کہ جب کھجوریں موجود ہیں پھر طرح طرح کی اشیاء جمع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3328 سے ماخوذ ہے۔